صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 614 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 614

صحيح البخاری جلد ۱۶ ۶۱۴ ۹۶ - كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة بھی لکھا ہے کہ آخر کار بخت نصر یا اس کی اولا د بت پرستی وغیرہ سے باز آکر واحد خدا پر ایمان لائی ہے۔اسی طرح ادھر بھی چنگیز خاں کی اولاد مسلمان ہو گئی۔غرض خدا نے مماثلت میں طابِقُ النَّعْلِ بِالنَّعْلِ والا صاف معاملہ کر کے دکھا دیا ہے۔“ (ملفوظات، جلد ۳ صفحه ۱۰۸) بَاب ١٥: إِثْمُ مَنْ دَعَا إِلَى ضَلَالَةٍ أَوْ سَنَّ سُنَّةً سَيِّئَةً اس شخص کا گناہ جس نے گمراہی کی طرف بلایا یا کوئی بری رسم قائم کی لِقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: وَمِنْ اَوزَارِ الَّذِینَ اللہ تعالیٰ کا فرمانا: اور ان جاہلوں کے بوجھ بھی (وہ يُضِلُّونَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ (النحل: ٢٦) الآيَةَ اُٹھائیں گے ) جن کو وہ گمراہ کر رہے ہیں۔:۷۳۲۱: حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا ۷۳۲۱: حمیدی نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن سُفْيَانُ حَدَّثَنَا الْأَعْمَسُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عیینہ نے ہمیں بتایا۔اعمش نے ہم سے بیان کیا۔بْنِ مُرَّةَ عَنْ مَّسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ اعمش نے عبد اللہ بن مرہ سے ، عبد اللہ نے مسروق قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے مسروق نے حضرت عبد اللہ بن مسعود) سے لَيْسَ مِنْ نَّفْسٍ تُقْتَلُ ظُلْمًا إِلَّا كَانَ روایت کی۔انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عَلَى ابْنِ آدَمَ الْأَوَّلِ كِفْلٌ مِنْهَا، فرمایا: جو نفس بھی ظلم سے مارا جاتا ہے تو اس کے وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ مِنْ دَمِهَا لِأَنَّهُ گناہ کا ایک حصہ آدم کے پہلے بیٹے پر بھی ضرور ہوتا ہے۔اور کبھی سفیان نے یوں کہا کہ اس کے خون {أَوَّلُ مَنْ سَنَّ الْقَتْلَ أَوَّلًا۔کا حصہ کیونکہ وہ پہلا شخص ہے جس نے پہلے پہل قتل کی رسم جاری کی۔أطرافه: ٣٣٣٥، ٦٨٦٧ - ريح : إِثْمُ مَنْ دَعَا إِلَى ضَلَالَةٍ أَوْ سَنَ سُنَّةٌ سَيِّئَةً: اس شخص کا گناہ جس نے گمراہی کی طرف بلایا یا کوئی بری رسم قائم کی۔علامہ عینی بیان کرتے ہیں کہ یہ باب اُس شخص کے گناہ کے بیان میں ہے کہ جو لوگوں کو کسی گمراہی کی طرف بلائے۔امام بخاری کی مراد یہ ہے کہ جو بھی اس گناہ میں اس کی پیروی کرے گا تو پیروی کرنے والے کے گناہ کی طرح اُس کو بھی گناہ ہو گا۔(عمدۃ القاری، جزء ۲۵ صفحه ۵۳) 1۔یہ الفاظ عمدۃ القاری کے مطابق ہیں۔(عمدۃ القاری، جزء ۲۵ صفحہ ۵۳) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔