صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 613 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 613

صحيح البخاری جلد ۱۶ ۶۱۳ ۹۶ - كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: حضرت موسیٰ کو خبر ملی تھی کہ مسیح اُس وقت آئے گا جب یہودیوں میں بہت فرقے ہوں گے ، اُن کے عقائد میں سخت اختلاف ہو گا۔بعض کو فرشتوں کے وجود سے انکار، بعض کو قیامت و حشر اجساد سے انکار۔غرض جب طرح طرح کی عملی بد اعتقادی پھیل جائے گی تب بطور حکم کے مسیح اُن میں آوے گا۔اس طرح ہمارے بادی کامل صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو اطلاع دی کہ جب تم میں بھی یہودیوں کی طرح کثرت سے فرقے ہو جاویں گے اور اُن کی طرح مختلف قسم کی بد اعتقادیاں اور بدعملیاں شروع ہوں گی، علماء یہود کی طرح بعض بعض کے مکفر ہوں گے ، اُس وقت اِس اُمتِ مرحومہ کا مسیح بھی بطور حکم کے آئے گا جو قرآن شریف سے ہر امر کا فیصلہ کرے گا۔“ (ملفوظات، جلد اوّل صفحہ ۲۹) نیز آپ نے فرمایا: ”جس طرح اللہ تعالیٰ نے فضائل میں اس قوم اسلام کو اُمت موئی کا مشیل بنایا ہے ایسے ہی رزائل بھی کل وہ اس قوم میں جمع ہیں جو اُن میں پائے جاتے تھے۔یہ قوم تو یہود کے نقش قدم پر ایسی چلی ہے جیسے کوئی اپنے آقا و مولی مطاع رسول کی پیروی کرتا ہے۔یہود کے واسطے قرآن شریف میں حکم تھا کہ وہ دو دفعہ فساد کریں گے اور پھر اُن کی سزا دہی کے واسطے اللہ تعالیٰ اپنے بندے اُن پر مسلط کرے گا۔چنانچہ بخت نصر اور طیطوس دونو نے ان لوگوں کو بُری طرح ہلاک کیا اور تباہ کیا۔اس کی مماثلث کے لئے اس قوم میں نمونہ موجود ہے کہ جب یہ فسق و فجور میں حد سے نکلنے لگے اور خدا کے احکام کی ہتک اور شعائر اللہ سے نفرت اُن میں آگئی اور دنیا اور اس کی زیب وزنیت میں ہی گم ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو بھی اسی طرح ہلا کو، چنگیز خاں وغیرہ سے برباد کر ایا۔لکھا ہے کہ اس وقت یہ آسمان سے آواز آتی تھی ايُّهَا الكُفَّارُ اقْتُلُوا الْفُجّار - غرض فاسق فاجر انسان خدا کی نظر میں کافر سے بھی ذلیل اور قابل نفرین ہے۔اگر کوئی کتاب قرآن شریف کے بعد نازل ہونے والی ہوتی تو ضرور ان لوگوں کے نام بھی اسی طرح عِبَادًا لنا میں داخل کئے جاتے۔یہ