صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 612 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 612

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۶۱۲ ۹۶ - كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة اندلس نے روما کے عیسائی بادشاہ سے خفیہ معاہدہ کیا کہ وہ اُس کے ساتھ مل کر خلافت عباسیہ کو تباہ کرے گی اور عباسی حکومت نے شاہ فرانس سے مل کر یہ معاہدہ کیا کہ وہ سپین کی اسلامی حکومت کو متزلزل کرنے کے لئے اس کا ساتھ دے گی۔گویا انہوں نے اپنے ہاتھ اپنے بھائیوں کے خون سے رنگے اور یہ نہ سمجھا کہ اسلامی سیاست میں مسیحیوں کو داخل کر کے وہ اسلام کو کتنا بڑا نقصان پہنچارہے ہیں۔اسی طرح صلاح الدین ایوبی جب سارے یورپ کے مقابلہ میں لڑ رہا تھا، اُس وقت مسلمان اور عیسائی حکومتوں نے باہم معاہدہ کر کے اس کو قتل کرنے کی سازش کی اور آخر ایک مسلمان کو ہی اس کام پر مقرر کیا گیا اور اُس نے صلاح الدین پر نماز پڑھتے ہوئے قاتلانہ حملہ کر دیا۔گو اللہ تعالیٰ نے اُس پر فضل کیا اور وہ اس قاتلانہ حملہ سے محفوظ رہا۔پھر یہود کو کہا گیا تھا کہ تم نے یہ کیا دوغلی پالیسی اختیار کر رکھی ہے کہ ایک طرف اپنے بھائیوں سے جنگ کرتے ہو اور دوسری طرف جب وہ قید ہو جاتے ہیں تو تم فدیہ دے کر اُن کو چھڑانے کی کوشش کرتے ہو۔یہی کیفیت مسلمانوں کی بھی نظر آنے لگی۔چنانچہ پہلی جنگ عظیم میں مسلمانوں نے ترکوں کے خلاف لشکروں میں بھرتی ہو کر جنگ کی لیکن جب وہ لوگ قید ہو گئے تو پھر اُن کو فدیہ دے کر چھڑانا چاہا۔غرض جس طریق پر یہود نے قدم مارا تھا مسلمانوں نے اسی طریق پر چلنا شروع کر دیا حالانکہ یہ واقعات اس لئے بتائے گئے تھے کہ مسلمان ہوشیار رہیں اور اپنے اندر ان خرابیوں کو پیدا نہ ہونے دیں۔بیشک جہاں تک اہل کتاب کی اصلاح کا سوال ہے اس سے یہود اور نصاریٰ ہی مراد ہیں لیکن اس میں کیا شبہ ہے کہ مسلمان بھی اہل کتاب ہیں۔بلکہ صحیح معنوں میں اہل کتاب صرف مسلمان ہی کہلا سکتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک کامل کتاب عطا فرمائی ہے جبکہ دوسری قومیں ایسی کامل اور بے عیب کتاب سے محروم ہیں۔پس اہل کتاب ہونے کے لحاظ سے بھی مسلمانوں کا فرض تھا کہ وہ یہود اور نصاریٰ کی خرابیوں پر کڑی نگاہ رکھتے اور اُن کو اپنے اندر نہ آنے دیتے۔“ ( تفسیر کبیر، تفسیر سورة البقرة، جلد ۲ صفحه ۱۶، ۱۷)