صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 608
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۶۰۸ ۹۲ - كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة وَيُعَلِّمُهَا وَلَا يَتَكَلَّفُ مِنْ قِبَلِهِ وَمُشَاوَرَةِ اپنی طرف سے کوئی بناوٹ نہ کرے اور خلفاء کا الْخُلَفَاءِ وَسُؤَالِهِمْ أَهْلَ الْعِلْمِ۔اہل علم سے مشورہ کرنا اور ان سے پوچھنا۔٧٣١٦: حَدَّثَنَا شِهَابُ بْنُ عَبَّادٍ :۳۱۶ شهاب بن عباد نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ ابراہیم بن مُحمید نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اسماعیل عَنْ قَيْسٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ قَالَ سے ، اسماعیل نے قیس سے، قیس نے حضرت رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا عبد الله بن مسعودؓ ) سے روایت کی۔انہوں نے حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالاً کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رشک فَسُلِّطَ عَلَى هَلَكَتِهِ فِي الْحَقِّ وَآخَرُ نہیں ہونا چاہیئے مگر دو شخصوں پر ہی۔ایک وہ شخص جس کو اللہ نے مال دیا ہو اور حق میں اس مال کے آتَاهُ اللهُ حِكْمَةً فَهُوَ يَقْضِي بِهَا خرچ کرنے کی اس کو توفیق دی گئی ہو اور دوسرا وہ شخص جس کو اللہ نے حکمت دی ہو اور وہ اُس سے وَيُعَلِّمُهَا۔أطرافه ٧٣، ١٤٠٩، ٧١٤١- فیصلہ کرتا ہے اور اس کو سکھاتا ہے۔۷۳۱۷: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ أَخْبَرَنَا ۷۳۱۷ : محمد نے ہم سے بیان کیا کہ ابو معاویہ نے أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ہمیں بتایا۔ہشام نے ہم سے بیان کیا۔ہشام نے الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ سَأَلَ عُمَرُ بْنُ اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت مغیرہ بن شعبہ سے روایت کی کہ حضرت مغیرہ نے کہا: الْخَطَّابِ عَنْ إِمْلَاصِ الْمَرْأَةِ - وَهِيَ حضرت عمر بن خطاب نے عورت کے جنین کے الَّتِي يُضْرَبُ بَطْنُهَا فَتُلْقِي جَنِينًا - گرائے جانے کے متعلق پوچھا کہ جس کو پیٹ پر مارا فَقَالَ أَيُّكُمْ سَمِعَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ جاوے اور وہ بچہ گر ا دے۔آپ نے فرمایا: تم میں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ شَيْئًا؟ فَقُلْتُ أَنَا فَقَالَ سے کسی نے نبی صلی الم سے اس کے متعلق کچھ سنا؟ مَا هُوَ؟ قُلْتُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ میں نے کہا: میں نے سنا ہے تو انہوں نے کہا : کیا سنا عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِيهِ غُرَّةٌ عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ ہے؟ میں نے کہا کہ میں نے نبی صلی علم کو فرماتے سنا فَقَالَ لَا تَبْرَحْ حَتَّى تَجِيتَنِي بِالْمَخْرَجِ ہے کہ اس میں ایک بردہ دینا ہوگا، غلام ہو یا لونڈی،