صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 607 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 607

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۶۰۷ ۹۲ - كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة الانْتِفَاءِ مِنْهُ۔أطرافه: ٥٣٠٥، ٦٨٤٧- آپ نے فرمایا: شاید یہ بھی کوئی رگ ہو جس نے اس بچے کو اپنے ہم شکل کر لیا ہو اور آپ نے اُس کو اجازت نہ دی کہ اُس بچے سے انکار کرے۔۷۳۱٥: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا ۷۳۱۵ مسد دنے ہم سے بیان کیا کہ ابو عوانہ نے أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ ہمیں بتایا۔انہوں نے ابو بشر سے ، ابو بشر نے سعید جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ أَنَّ امْرَأَةٌ جَاءَتْ بن جبیر سے ، سعید نے حضرت ابن عباس سے إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ روایت کی کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے إِنَّ أُمِّي نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ فَمَاتَتْ قَبْلَ پاس آئی کہنے لگی: میری ماں نے حج کرنے کی نذر عَنْهَا مانی تھی مگر حج کرنے سے پہلے وہ مرگئی تو کیا میں اس أَنْ تَحُجَّ أَفَأَحُجَّ عَنْهَا؟ قَالَ نَعَمْ حُرِّي کی طرف سے حج کرلوں؟ آپ نے فرمایا: ہاں اس أَرَأَيْتِ لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكِ دَيْنٌ کی طرف سے حج کر لو۔بھلا بتاؤ تو سہی اگر تمہاری أَكُنْتِ فَاضِيَتَهُ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ فَاقْضُوا ماں کے ذمے کچھ قرض ہو تو کیا تم اسے چکاؤ گی؟ الَّذِي لَهُ فَإِنَّ اللَّهَ أَحَقُّ بِالْوَفَاءِ۔اس نے کہا: ہاں۔آپ نے فرمایا: تو پھر جو اللہ کا ہے وہ بھی تم چکاؤ کیونکہ اللہ زیادہ حق دار ہے کہ أطرافه: ١٨٥٢، ٦٦٩٩ - اس کا حق ادا کیا جاوے۔باب ۱۳: مَا جَاءَ فِي اجْتِهَادِ الْقَضَاءِ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى جو اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ہے اس کے مطابق قاضیوں کے اجتہاد کرنے کے متعلق جو حدیثیں آئی ہیں لِقَوْلِهِ : وَمَنْ لَمْ يَحْكُم بِمَا أَنْزَلَ الله کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اور جو (لوگ) اس فا وليكَ هُمُ الظَّلِمُونَ (المائدة : ٤٦)۔(کلام) کے مطابق فیصلہ نہ کریں جو اللہ نے نازل کیا ہے تو وہی (حقیقی) ظالم ہیں۔وَمَدَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اور بی لی لی ایم کا دانشمند کی تعریف کرنا جبکہ وہ حکمت صَاحِبَ الْحِكْمَةِ حِينَ يَقْضِي بِهَا سے فیصلہ کرے اور لوگوں کو حکمت سکھائے اور 1 عمدۃ القاری میں الفاظ اجْتِهَادِ الْقُضَاةِ ہیں۔(عمدۃ القاری، جزء ۲۵ صفحہ (۵) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔