صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 609
صحيح البخاری جلد ۱۶ فِيمَا قُلْتَ ۶۰۹ ۹۶ - كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة حضرت عمرؓ نے فرمایا: تم جاؤ گے نہیں جب تک کہ جو تم نے کہا ہے اُس کے متعلق نکلنے کی راہ میرے پاس نہیں لاتے۔أطرافه ٦٩٠٥، ٦٩٠٧، ٦٩٠٨- ۷۳۱۸: فَخَرَجْتُ فَوَجَدْتُ مُحَمَّدَ :۷۳۱۸ اس پر میں وہاں سے نکل کر چلا گیا اور أَنه حضرت محمد بن مسلمہ کو میں نے پایا اور میں اُن کو بْنَ مَسْلَمَةَ فَجِئْتُ بِهِ فَشَهِدَ مَعِي سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لے آیا تو انہوں نے میرے ساتھ یہ شہادت دی يَقُولُ فِيهِ غُرَّةٌ عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ۔کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا تھا کہ اس میں ایک بردہ دینا ہو گا ، غلام ہو یا لونڈی۔تَابَعَهُ ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُرْوَةَ ابن ابی زناد نے بھی اپنے باپ سے ، ان کے باپ نے عروہ سے، عروہ نے حضرت مغیرہ سے روایت عَنِ الْمُغِيرَةِ۔أطرافه: ٦٩٠٦، ٦٩٠٨ - کی۔ريح : مَا جَاءَ فِي اجْتِهَادِ الْقُضَاةِ مَا أَنزَلَ اللهُ تعالی: جو اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ہے اس کے مطابق قاضیوں کے اجتہاد کرنے کے متعلق جو حدیثیں آئی ہیں۔حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: حضرت معاذ بن جبل کے کچھ ساتھی جو حمص کے رہنے والے تھے بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حضرت معاذ کو یمن کا قاضی مقرر کر کے بھیجا تو معاذ سے پوچھا کہ جب کوئی مقدمہ تمہارے سامنے پیش ہو تو کیسے فیصلہ کرو گے ؟ معاذ نے عرض کیا کہ کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کروں گا یعنی قرآن شریف کے مطابق فیصلہ کروں گا۔آپؐ نے پوچھا: اگر کتاب اللہ میں وضاحت نہ ملی تو پھر کیا کرو گے ؟ معاذ نے عرض کی: اللہ تعالیٰ کے رسول کی سنت کے مطابق فیصلہ کروں گا۔آپ نے فرمایا: نہ سنت میں کوئی ہدایت پاؤ نہ کتاب اللہ میں تو پھر کیا کرو گے ؟ تو معاذ نے عرض کی کہ اس صورت میں غور و فکر کر کے اپنی رائے سے فیصلہ کرنے کی کوشش کروں گا اور اس میں کسی سستی اور غفلت سے کام نہیں لوں گا۔حضور نے یہ سن کر معاذ کے سینے پر شاباش دینے کے لئے ہاتھ مار کر فرمایا: الحمد للہ !خدا کا شکر