صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 604 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 604

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۲۰۴ ۹۶ - كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة من تیری ذات کی عظمت کی پناہ چاہتا ہوں، تیرے چہرے کی پناہ مانگتا ہوں۔ پھر یہ آیت آپ نے پڑھی أَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِكُمْ یا تمہارے قدموں کے نیچے سے عذاب ظاہر فرمائے ۔ قَالَ أَعُوذُ بِوَجْهِكَ اے اللہ ! میں تیرے چہرے کی عظمت تیرے وقار کی اور تیری شان کی پناہ مانگتا ہوں۔ اَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَيُذِي وَيُذِيقَ بَعْضَكُمْ بَأْسَ بعض پھر یہ ٹکر ا تلاوت فرمایا: یا تمہیں آپس میں گروہوں میں تقسیم کر دے اور ایک کا عذاب دوسرے کو پہنچائے۔ اس پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: هذا أَهْوَنُ أَوْ قَالَ هَذَا أَيْسَرُ - فرمایا: ہاں یہ نسبتا نرم بات ہے یہ زیادہ آسان بات ہے۔ صحیح بخاری کتاب التفسیر میں یہ روایت درج ہے۔ ( صحیح بخاری کتاب التفسیر حدیث نمبر : ۶۷۶۹) اس پر اگر آپ غور کریں تو آنحضرت صلی اللی ایم کی رہ رت صلی علیہم کی رحمت اور شفقت کا ایک حیرت انگیز نہایت ہی عظیم الشان پہلو سامنے آتا ہے۔ یہ عذاب کی خبریں تو مخالفین اور معاندین کے متعلق دی جارہی تھیں۔ پس جب آنحضرت صلی اللہ یکم پناہ مانگتے ہیں تو عملاً ان کے لئے دعا کرتے ہیں کہ اے خدا ایسے سخت عذاب میں ان کو مبتلا نہ فرما۔ پس وہ عذاب جو خدا کی طرف سے براہ راست نازل ہوتا ہے عارف باللہ اس سے بہت زیادہ خوف کھاتا ہے اور انسان جو انسان کو تکلیف پہنچا سکتا ہے اس کو نسبتا کم محسوس کرتا ہے۔ پس حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی علیم نے ان دونوں عذابوں کی دفعہ جو براہ راست خدا کی طرف سے آسمان سے نازل ہوں یا زمین سے ظاہر ہوں ان کی مرتبہ خدا سے پناہ مانگی۔ یعنی اپنے مخالفین کے حق میں عملاً دعا کی اور تیسری قسم جب عذاب کی بتائی گئی تو آپ نے فرمایا: ہاں یہ نسبتا آسان ہے۔ معاندین کو خدا نے پکڑنا تو تھا لیکن ان کے لئے نسبتاً آسان پکڑ کی طلب فرمائی۔ جہاں تک تاریخ گواہی دیتی ہے یہ بات قطعی طور پر ثابت ہے کہ حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اسلام کے زمانے میں یعنی پہلے زمانے میں اب بھی آپ ہی کا زمانہ ہے۔ اولین دور میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس دعا کی قبولیت کے نشان دکھائے اور ایک بھی واقعہ ایسا نظر نہیں آتا جیسے پرانی قوموں کو آسمان سے پتھر برسا کر ہلاک کیا گیا تھا کہ حضرت رسول کریم صلی علیم کے سامنے آپ کی قوم کو اس طرح ہلاک کیا گیا ہو۔ ایک بھی واقعہ ایسا نظر نہیں آتا کہ جس طرح حضرت نوح کی قوم کو آسمان الله