صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 604
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۶۰۴ ٩٦ - كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة تیری ذات کی عظمت کی پناہ چاہتاہوں، تیرے چہرے کی پناہ مانگتا ہوں۔پھر یہ آیت آپ نے پڑھی اؤ مِنْ تَحْتِ اَرجُلِكُم یا تمہارے قدموں کے نیچے سے عذاب ظاہر فرمائے۔قَالَ اَعُوذُ بِوَجْهِكَ اے اللہ ! میں تیرے چہرے کی عظمت تیرے و قار کی اور تیری شان کی پناہ مانگتا ہوں۔او يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَكُمْ بَأْسَ بَعْض پھر یہ ٹکڑا تلاوت فرمایا: یا تمہیں آپس میں گروہوں میں تقسیم کر دے اور ایک کا عذاب دوسرے کو پہنچائے۔اس پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: هَذَا اهُوَنُ اَوْ قَالَ هَذَا ايسر - فرمایا: ہاں یہ نسبتا نرم بات ہے یہ زیادہ آسان بات ہے۔صحیح بخاری کتاب التفسیر میں یہ روایت درج ہے۔(صحیح بخاری کتاب التفسیر حدیث نمبر : ۶۷۶۹) اس پر اگر آپ غور کریں تو آنحضرت صلی الم کی رحمت اور شفقت کا ایک حیرت انگیز نہایت ہی عظیم الشان پہلو سامنے آتا ہے۔یہ عذاب کی خبریں تو مخالفین اور معاندین کے متعلق دی جارہی تھیں۔پس جب آنحضرت صلی علیہ الم پناہ مانگتے ہیں تو عملاً ان کے لئے دعا کرتے ہیں کہ اے خدا ایسے سخت عذاب میں ان کو مبتلا نہ فرما۔پس وہ عذاب جو خدا کی طرف سے براہ راست نازل ہوتا ہے عارف باللہ اس سے بہت زیادہ خوف کھاتا ہے اور انسان جو انسان کو تکلیف پہنچا سکتا ہے اس کو نسبتا کم محسوس کرتا ہے۔پس حضرت اقدس محمد مصطفی صلی ال یکم نے ان دونوں عذابوں کی دفعہ جو براہ راست خدا کی طرف سے آسمان سے نازل ہوں یاز مین سے ظاہر ہوں ان کی مرتبہ خدا سے پناہ مانگی۔یعنی اپنے مخالفین کے حق میں عملاً دعا کی اور تیسری قسم جب عذاب کی بتائی گئی تو آپ نے فرمایا: ہاں یہ نسبتاً آسان ہے۔معاندین کو خدا نے پکڑ نا تو تھا لیکن ان کے لئے نسبتاً آسان پکڑ کی طلب فرمائی۔جہاں تک تاریخ گواہی دیتی ہے یہ بات قطعی طور پر ثابت ہے کہ حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ نیلم کے زمانے میں یعنی پہلے زمانے میں اب بھی آپ ہی کا زمانہ ہے۔اولین دور میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس دعا کی قبولیت کے نشان دکھائے اور ایک بھی واقعہ ایسا نظر نہیں آتا جیسے پرانی قوموں کو آسمان سے پتھر برسا کر ہلاک کیا گیا تھا کہ حضرت رسول کریم ملی ایم کے سامنے آپ کی قوم کو اس طرح ہلاک کیا گیا ہو۔ایک بھی واقعہ ایسا نظر نہیں آتا کہ جس طرح حضرت نوح کی قوم کو آسمان