صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 603
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۶۰۳ ٩٦ - كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة مراد ہیں خُدَّاهُ السُّوء (یعنی بُرے ملازم) بھی ہو سکتے ہیں اور اس بارہ میں حضرت اُبی بن کعب کی روایت بھی نقل کی گئی ہے کہ یہ خیال درست نہیں کہ آسمانی قسم کا عذاب رجم و خسف و غیرہ تو امت محمدیہ پر نہیں آئے گا اور تفرقہ و خانہ جنگی وغیرہ کا عذاب آسکتا ہے بلکہ حضرت سعد بن ابی وقاص کی روایت میں جو امام احمد بن ح ن حنبل اور ترمذی نے نقل کی ہے یہاں تک صراحت ہے: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ: قُلْ هُوَ الْقَادِرُ إِلَى آخِرِهَا فَقَالَ أَمَا إِنَّهَا كَائِنَةٌ وَلَمْ يَأْتِ تَأْوِيلُهَا بَعْدُد رسول الله صل الم سے اس آیت کی نسبت پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ یہ سزائیں ضرور واقع ہوں گی مگر ابھی تک ان کی تاویل ظاہر نہیں کہ کب اور کس صورت میں وقوع پذیر ہوں گی۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه ۳۶۹ تا ۳۷۱)۔۔مذکورہ بالا روایات میں سے بعض میں یہ صراحت ہے کہ جس طرح پہلی قومیں ہمہ گیر عذاب سے دوچار ہوئیں جس نے ہمیشہ کے لیے اُن کو بیخ و بن سے اکھیر دیا، امت محمدیہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی اُمت میں سے اہل اللہ کی دعاؤں کے طفیل ایسی ہمہ گیر تباہی سے بچائی جائے گی۔انشاء اللہ تعالیٰ۔“ ( ترجمه و شرح صحیح البخاری، کتاب التفسیر، سورۃ الانعام، جلد ۱۰ صفحه ۲۸۶،۲۸۵) حضرت خلیفہ المسیح الرابع فرماتے ہیں: ”یہ آیات تین قسم کے عذابوں کی خبر دے رہی ہیں۔حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر جب یہ وحی نازل ہوئی تو اس پر آپ کا رد عمل کیا تھا۔یہ ایک بہت ہی دلچسپ مطالعہ ہے جسے حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے عشاق کو پیش نظر رکھنا چاہیئے۔حضرت جابر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی (یعنی اس آیت کا یہ ٹکڑا جو ابھی پڑھ کر میں سناتا ہوں قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَن يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِكُمْ کہہ دے اُن سے کہ اللہ تعالیٰ قادر ہے کہ وہ تمہیں تمہارے اوپر سے عذاب کے ذریعہ سے پکڑے یا تمہارے اوپر سے عذاب نازل فرمائے ) قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ اَعُوْذُ بِوَجْهِكَ کہ اے اللہ ! میں (سنن الترمذي، أبواب تفسير القرآن، باب ومن سورة الأنعام) (مسند أحمد بن حنبل، مسند سعد بن أبي وقاص، جزء اول صفحه ۱۷۰)