صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 605
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۶۰۵ ۹۶ - كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة سے بھی ہلاکت کا پیغام ملا اور زمین نے بھی ہلاکت انگلی۔اس طرح آنحضرت مصلی ام نے بھی اپنی قوم کے متعلق ایسی تکلیف دہ سزا کا مشاہدہ فرمایا ہو۔ہاں آپس میں انسان کے ذریعے انسان کو جو پکڑ جو عذاب میں مبتلا کیا جاسکتا ہے وہ نظارے آنحضرت صلى الله علم کو دکھائے گئے اور اس میں بھی آخون کے پہلو کو ہمیشہ پیش نظر رکھا گیا۔آج دشمن اسلام حضرت اقدس محمد مصطفی صلی الی یوم کے غزوات اور ابتدائی جنگوں کے متعلق جتنا چاہے کہے، جس قدر چاہے تعصب کا اظہار کرے لیکن کل عالم میں بلا اشتباہ ایک بھی نظیر ایسی نہیں پیش کر سکتا کہ اتنا عظیم الشان انقلاب اتنی تھوڑی جانی قربانی کے ذریعے رونما ہو گیا ہو۔تمام جنگوں میں تمام غزوات میں جو حضور اقدس محمد مصطفی صل اللہ کل کو پیش آئے اُن تمام میں چند سو نفوس سے زیادہ ہلاک نہیں ہوئے اور حیرت انگیز انقلاب جزیرہ عرب میں ہی رونما نہیں ہوا بلکہ چاروں طرف پھیل گیا ان سرحدوں کو عبور کر گیا۔یہ وہی دعا تھی۔کتنا گہر ا تعلق تھا حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ عوام کو ایک طرف انسانیت کے ساتھ اور دوسری طرف اپنے رب کے ساتھ کہ خدا جب اقتداری نشان دکھانا چاہتا ہے یہ فیصلہ فرمالیتا ہے اس وقت بھی آنحضرت صلی اللہ کی نرمی کے طالب ہوتے ہیں اور پھر آپ کی دعاسنی جاتی ہے اور بہت ہی معمولی جانی قربانی کے ذریعے ایک حیرت انگیز عظیم الشان انقلاب رونما ہوتا ہے۔تمام انسانی تاریخ کا مطالعہ کر کے دیکھ لیں۔اس قدر شدید مخالفتوں میں جبکہ غلبہ مخالفین کے پاس ہو ، کمزور لوگوں کے ہاتھوں بغیر قربانی کے بغیر عظیم جانی قربانی کے ایسا انقلاب کبھی رونما نہیں ہوا، نہ عقل ہو سکتا ہے۔“ خطبات طاہر، خطبہ جمعہ فرموده ۱۷، جنوری ۱۹۸۶ء، جلد ۵ صفحه ۵۸ تا ۶۰) حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دُعا فرمائی کہ الہی میری قوم کو بیرونی دشمن وو سے بچا کہ اس کا استیصال نہ کر دے۔حدیث میں ہے کہ پروردگار نے فرمایا: میں نے قبول کی۔پھر عرض کیا کہ خانہ جنگیوں سے ان کا استیصال نہ ہو۔یہ دُعا بھی قبول ہوئی۔پھر باقی رہ گیا وَيُذِيقَ بَعْضَكُم بَأسَ بَعْضٍ۔چونکہ یہ نتیجہ تھا قرآنی نا فرمانی