صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 602
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۶۰۲ ۹۶ - كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ہی ہے جو تنازعات سے بچنے کی راہ ہے اور تنازعات میں پڑی ہوئی قوم یقینا اپناز عب اور طاقت کھو کر قتل و غارت، خانہ جنگیوں اور جنگ وجدال کا شکار بن جاتی ہے۔ حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب فرماتے ہیں: عنوان باب میں جس آیت کا حوالہ دیا گیا ہے اُس میں تین قسم کی سزاؤں کا ذکر ہے۔۔ ایک قسم آسمانی سزا کی ہے جس کو معنونہ آیت میں عَذَابًا مِنْ فَوْقِكُم سے تعبیر کیا گیا ہے اور دوسری قسیم عذاب مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِكُمْ کے الفاظ سے بیان فرمائی وو ہے۔ تمہارے پاؤں کے نیچے سے جیسے سیلاب و زلازل وغیرہ یا ماتحت لوگوں کے ذریعہ سے جیسے رعیت کی بغاوت۔ عیت کی بغاوت۔ زار روس کا حال زار ہماری آنکھوں کے سامنے ہے اور موجودہ زمانے میں آئے دن اس قسم کی سزا کا مشاہدہ بار بار کرایا جا رہا ہے۔ ساری قوم بالاتفاق آگ بگولے کی طرح اُٹھتی اور قصر بریں کے اندر آغوش عیش و عشرت میں کروٹیں لینے والے تعمین کو واصل جہنم کر دیتی ہے۔ تیسری قسم کی سزا کا ذکر الفاظ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَكُمْ بَأْسَ بَعْضٍ (الأنعام: ۶۶) سے فرمایا ہے۔ یعنی ایک دوسرے کے ساتھ الجھانا، گھتم گتھا کر دینا۔ طبری نے حضرت ابن عباس سے شیعا کا مفہوم الأهْوَاءُ الْمُخْتَلِفَة نقل کیا ہے۔ (فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۳۶۹) یعنی مختلف خواہشات نفس میں تمہیں مبتلا کر کے آپس میں گلو گیر کر سے۔ دے۔ اس سے مراد خانہ جنگی ہے جو بہتوں کی ہلاکت و تباہی کا باعث ہوتی ہے۔ اس باب کے تحت جو روایت نقل کی گئی ہے اس سے ظاہر ہے کہ ان تین قسم کے عذابوں میں سے آسمانی عذاب اور زمینی عذاب ہولناک ہیں جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اَعُوذُ بو جھک کے الفاظ سے اللہ تعالی کی پناہ مانگی ہے اور تفرقہ و خانہ جنگی کے عذاب کو باقی عذابوں کی نسبت آسان تر بتایا ہے مگر یہ تینوں سزائیں ہی جب شدت اختیار کر لیتی ہیں تو نا قابل برداشت ہو جاتی ہیں۔ امام ابن حجر نے امام مسلم، امام احمد بن حنبل ، ترمذی، نسائی، طبری اور ابن ابی حاتم وغیرہ کی متعدد روایتیں معنونہ آیت کے تعلق میں نقل کی ہیں کہ فوقانی عذاب سے بافراط باراں اور رحم آگ بگولے و طوفان اور قحط وغیرہ مراد ہیں اسی طرح اس سے آئمةُ السُّوء برے امام و سردار بھی ہو سکتے ہیں اور تحتانی عذاب سے جس طرح زلزلے وغیرہ