صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 586 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 586

صحیح البخاری جلد ۱۶ DAY ۹۶ - كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة سے پاک اسلام کی حقیقی تعلیم اور اصل چہرہ دنیا کو دکھایا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زندہ نبی ہونے کا نشان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اتباع و اطاعت سے ثابت کیا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: بہت سے لوگ ہیں جو اپنے تراشے ہوئے وظائف اور اوراد کے ذریعہ سے ان کمالات کو حاصل کرنا چاہتے ہیں یا خدا تعالیٰ کے ساتھ سچا تعلق پیدا کرنا چاہتے ہیں لیکن میں تمہیں کہتا ہوں کہ جو طریق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار نہیں کیا وہ محض فضول ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر منعم علیہم کی راہ کا سچا تجربہ کار اور کون ہو سکتا ہے جن پر نبوت کے بھی سارے کمالات ختم ہو گئے۔آپ نے جو راہ اختیار کی وہ بہت ہی صحیح اور اقرب ہے۔اس راہ کو چھوڑ کر دوسری راہ ایجاد کرنا، خواہ وہ بظاہر کتنی ہی خوش گن معلوم ہوتی ہو ، میری رائے میں ہلاکت ہے اور خدا تعالیٰ نے مجھ پر ایسا ہی ظاہر کیا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی اتباع سے خد املتا ہے اور آپ کی اتباع کو چھوڑ کر خواہ کوئی ساری عمر ٹکریں مارتا رہے ، گوہر مقصود اس کے ہاتھ نہیں آسکتا۔چنانچہ سعدی بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی ضرورت بدیں الفاظ بتاتا ہے: بزہد و ورع کوشش و صدق وصفا ولیکن میفزائے بر مصطفی آنحضرت صلی للہ نام کی راہ کو ہر گز نہ چھوڑو۔میں دیکھتا ہوں کہ قسم قسم کے وظیفے لوگوں نے ایجاد کر لیے ہیں، اُلٹے سیدھے لٹکتے ہیں اور جوگیوں کی طرح راہبانہ طریقے اختیار کئے جاتے ہیں لیکن یہ سب بے فائدہ ہیں۔انبیاء کی یہ سنت نہیں کہ وہ اُلٹے سیدھے لٹکتے رہیں یا نفی اثبات کے ذکر کریں اور آڑہ کے ذکر کریں۔آنحضرت صلی الی یوم کو اسی لئے اُسوہ حسنہ فرمایا۔لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ (الاحزاب: ۲۲) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلو اور ایک ذرہ بھر بھی ادھر یا اُدھر ہونے کی کوشش نہ کرو۔“ (ملفوظات، جلد اوّل صفحہ ۲۳۶، ۲۳۷) نیز فرمایا: قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ (آل عمران: ۳۲) اللہ تعالیٰ کے خوش کرنے کا ایک یہی طریق ہے کہ آنحضرت ما ایلم کی سچی فرمانبرداری کی جاوے