صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 585
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۵۸۵ ۹۶ - كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة فَادْفَعَاهَا إِلَيَّ فَأَنَا أَكْفِيكُمَاهَا۔چنانچہ میں نے اس شرط پر یہ جائیداد تم دونوں کے حوالے کر دی۔میں تم سے اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں ، کیا میں نے یہ جائیداد اس شرط پر ان دونوں کے حوالے کی تھی؟ اس جماعت نے کہا: ہاں۔پھر حضرت عمرؓ حضرت علیؓ اور حضرت عباس کی طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے : میں تم دونوں سے اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں۔کیا میں نے یہ جائیداد تمہارے حوالے اس شرط پر کی تھی؟ ان دونوں نے کہا: ہاں۔حضرت عمر نے کہا: تو پھر کیا تم مجھ سے اس کے سوا کوئی اور فیصلہ چاہتے ہو ؟ اس ذات کی قسم! جس کے حکم سے آسمان اور زمین قائم ہیں، اس کے سوا کوئی اور فیصلہ میں اس کے متعلق نہیں کروں گا یہاں تک کہ وہ گھڑی بھی برپا ہو جائے۔اگر تم دونوں اس جائیداد کے انتظام سے عاجز آگئے ہو تو اس کو میرے سپرد کر دو، میں تمہاری جگہ اس کا انتظام کرلوں گا۔أطرافه ٢٩٠٤، ۳۰٩٤، ۴۰۳۳، ۱۸۸۵ ، ٥۳۵۷، ٥٣٥٨، ٦٧٢٨- شريح۔مَا يُكْرَهُ مِنَ التَّعَمُّقِ وَالتَّنَازُعِ فِي العِلْمِ وَالْغُلُو فِي الدِّينِ وَالْبِدَعِ : علم میں حد سے زیادہ گہرا جانا اور جھگڑا کرنا نیز دین اور بدعات میں غلو کرنا جو نا پسندیدہ ہے۔اسلامی تعلیم کا حسن اور نکتہ معراج یہ ہے کہ اس میں اعتدال پایا جاتا ہے اور یہی مذہب کی اصل روح ہے۔مذاہب جب بگڑتے ہیں تو وہ افراط و تفریط کا شکار ہو جاتے ہیں۔یہ افراط و تفریط نیکی اور مذہب کے نام پر بھی کیا جاتا ہے۔پہلی قومیں بھی اس کا شکار ہوئیں اور مسلمان بھی حالانکہ مسلمانوں کے سامنے کامل کتاب اور کامل نمونہ موجود ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاک اُسوہ کو اللہ تعالیٰ نے قیامت تک آپ کے بروز اور ظلی وجودوں کی شکل میں ہمیشہ قائم رکھا اور کوئی صدی ایسے کاملین سے خالی نہیں رہی اور پھر آخری زمانہ میں سراج منیر کے بروز کامل اور بدر منیر نے اس اُسوہ کا کامل احیاء کیا اور سورہ جمعہ کی پیشگوئی کے مطابق گویا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دوبارہ ظہور ہوا۔آپ کے بروز کامل حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسلام میں در آنے والی تمام بدعات کا قلع قمع کیا اور حکم عدل بن کر افراط و تفریط