صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 587
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۵۸۷ ۹۲ - کتاب الاعتصام بالكتاب والسنة دیکھا جاتا ہے کہ لوگ طرح طرح کی رسومات میں گرفتار ہیں۔کوئی مر جاتا ہے تو قسم قسم کی بدعات اور رسومات کی جاتی ہیں حالانکہ چاہیئے کہ مردہ کے حق میں دعا کریں۔رسومات کی بجا آوری میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صرف مخالفت ہی نہیں ہے بلکہ اُن کی ہتک بھی کی جاتی ہے اور وہ اس طرح سے کہ گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کو کافی نہیں سمجھا جاتا۔اگر کافی خیال کرتے تو اپنی طرف سے رسومات کے گھڑنے کی کیوں ضرورت پڑتی۔“ (ملفوظات، جلد ۳ صفحہ ۳۱۶) بَابِ ٦: إِثْمُ مَنْ آوَى مُحْدِثًا اُس شخص کا گناہ جس نے کسی بدعتی کو پناہ دی رَوَاهُ عَلِيٌّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ حضرت علی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کو روایت کیا۔وَسَلَّمَ۔٧٣٠٦: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ۷۳۰۶ موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ عبد الواحد نے ہمیں بتایا۔عاصم نے ہم سے بیان قَالَ قُلْتُ لِأَنَسٍ أَحَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ کیا۔انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت انس سے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ؟ قَالَ پوچھا: کیارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کو نَعَمْ مَا بَيْنَ كَذَا إِلَى كَذَا لَا يُقْطَعُ حرم قرار دیا؟ انہوں نے کہا: ہاں۔اس جگہ سے شَجَرُهَا مَنْ أَحْدَثَ فِيهَا فِيهَا حَدَثًا فَعَلَيْهِ لے کر اس جگہ تک اس میں درخت نہ کاٹا جائے۔جس نے اس میں کوئی بدعت جاری کی اُس پر اللہ اور فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہو گی۔عاصم کہتے تھے: موسیٰ بن انس نے مجھے بتایا کہ انہوں نے کہا: یا کسی بدعتی کو پناہ دے۔لَعْنَةُ اللهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ۔قَالَ عَاصِمٌ فَأَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ أَنَسٍ أَنَّهُ قَالَ أَوْ آوَى مُحْدِثًا۔طرفه: ١٨٦٧ - تشریح : اشْهُ مَنْ آوَى مخيفا : اس شخص کا گناہ جسنے کی بدعتی کو پنا دی۔علامہ عینی محدث کے معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس سے مراد بدعتی، ظالم یا کسی نافرمانی کو شروع کرنے والا ہے۔(عمدۃ القاری، جزء ۲۵ صفحه ۴۳) علامہ ابن بطال کہتے ہیں کہ یہ حدیث اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ مدینہ کے علاوہ کسی اور شہر میں بدعت کے ارتکاب یا بدعتی کو پناہ دینے کے مقابل مدینہ منورہ میں ایسا جرم کرنے پر گناہ نسبتاً زیادہ سخت