صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 584 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 584

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۵۸۴ ۹۶ - کتاب الاعتصام بالكتاب والسنة وَلِيُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تھے اور اس وقت تم دونوں، حضرت علی اور وَأَبِي بَكْرٍ فَقَبَضْتُهَا سَنَتَيْنِ أَعْمَالُ حضرت عباس کی طرف آپ متوجہ ہوئے، یہ خیال فِيهَا بِمَا عَمِلَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله کرتے تھے کہ حضرت ابو بکر اس جائیداد کے معاملہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ ثُمَّ جِئْتُمَانِي میں ایسے ایسے ہیں اور اللہ جانتا ہے کہ وہ اس میں وَكَلِمَتُكُمَا عَلَى كَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ وَأَمْرُ كُمَا کے نیک راہ راست پر چلنے والے حق کے پیرو تھے۔ پھر اس کے بعد اللہ نے حضرت ابو بکر کو وفات دی جَمِيعٌ جِئْتَنِي تَسْأَلُنِي نَصِيبَكَ مِنِ ابْنِ اور میں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللی یم اور حضرت أَخِيكِ وَأَتَانِي هَذَا يَسْأَلُنِي نَصِيبَ ابو بکر کا ولی ہوں۔ میں نے اس جائیداد کو دو سال المرسل امْرَأَتِهِ مِنْ أَبِيهَا فَقُلْتُ إِنْ شِئْتُمَا تک اپنے قبضہ میں رکھا، اس میں وہی تصرف کرتا تھا دَفَعْتُهَا إِلَيْكُمَا عَلَى أَنَّ عَلَيْكُمَا جو رسول اللہ صلی علیم اور حضرت ابو بکر کرتے رہے عَهْدَ اللهِ وَمِيثَاقَهُ تَعْمَلَانِ فِيهَا بِمَا پھر تم دونوں میرے پاس آئے اور تم دونوں کی عَمِلَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ بات ایک ہی بات تھی اور تمہارا آپس میں اتفاق وَسَلَّمَ وَبِمَا عَمِلَ فِيهَا أَبُو بَكْرٍ وَبِمَا تھا۔ عباس ! تم میرے پاس آئے مجھ سے اپنا وہ حصہ عَمِلْتُ فِيهَا مُنْذُ وَلِيتُهَا وَإِلَّا فَلَا مانگنے لگے جو تمہیں اپنے بھتیجے کی طرف سے پہنچتا تُكَلِّمَانِي فِيهَا فَقُلْتُمَا ادْفَعْهَا إِلَيْنَا تھا اور یہ میرے پاس آئے مجھ سے اپنی بیوی کا حصہ بِذَلِكَ فَدَفَعْتُهَا إِلَيْكُمَا بِذَلِكَ مانگنے لگے جو اس کو اس کے باپ کی طرف سے أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ هَلْ دَفَعْتُهَا إِلَيْهِمَا پہنچتا تھا۔ میں نے کہا: اگر تم دونوں یہ چاہو تو میں یہ بِذَلِكَ؟ قَالَ الرَّهْطُ نَعَمْ فَأَقْبَلَ عَلَى جائیداد تم دونوں کے سپر د کئے دیتا ہوں اس شرط پر کہ تم دونوں پر اللہ کا عہد اور اس کا پختہ پیمان ہو گا عَلِيّ وَعَبَّاسِ فَقَالَ أَنْشُدُكُمَا بِاللَّهِ کہ تم دونوں اس جائیداد میں وہی تصرف کرو گے هَلْ دَفَعْتُهَا إِلَيْكُمَا بِذَلِكَ ؟ قَالَا نَعَمْ جو رسول اللہ صلی علیم نے کیا اور جو تصرف اس میں قَالَ أَفَتَلْتَمِسَانِ مِنِّي قَضَاءً غَيْرَ ذَلِكَ حضرت ابو بکر نے کیا اور جو تصرف میں نے اس فَوَالَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ وقت سے کیا جب سے میں اس کا نگر ان ہوا، ورنہ لَا أَقْضِي فِيهَا قَضَاءً غَيْرَ ذَلِكَ حَتَّى تم اس کے متعلق مجھ سے بات نہ کرو تو تم دونوں تَقُومَ السَّاعَةُ فَإِنْ عَجَزْتُمَا عَنْهَا نے کہا: اس شرط پر آپ ہمارے حوالے کر دیں صة