صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 583 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 583

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۵۸۳ ۹۶ - کتاب الاعتصام بالكتاب والسنة صا القدس لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ تھا جو اس نے آپ کے سوا اور کسی کو نہیں دیا کیونکہ وَاللَّهِ مَا احْتَازَهَا دُونَكُمْ وَلَا اسْتَأْثَرَ بِهَا الله تعالیٰ فرماتا ہے : مَا أَفَاءَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْهُمْ عَلَيْكُمْ وَقَدْ أَعْطَاكُمُوهَا وَبَنَّهَا فِيكُمْ فَمَا أَو جَفْتُمْ ۔ تو یہ مال رسول اللہ صلی علیم کے لئے حَتَّى بَقِيَ مِنْهَا هَذَا الْمَالُ وَكَانَ النَّبِيُّ خاص کر تھا۔ پھر اللہ کی قسم آپ نے تمہیں چھوڑ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْفِقُ عَلَى أَهْلِهِ ر اس کو اپنے لئے سنبھال نہیں رکھا اور نہ ہی اس نَفَقَةَ سَنَتِهِمْ مِنْ هَذَا الْمَالِ ثُمَّ يَأْخُذُ میں تم پر اپنے آپ کو مقدم کیا اور ا تم پر اپنے آپ کو مقدم کیا اور تمہیں بھی یہ مال دیا اور تمہارے درمیان اس کو فراخ دلی سے تقسیم مَا بَقِيَ فَيَجْعَلُهُ مَجْعَلَ مَالِ اللَّهِ فَعَمِلَ کیا۔ آخر اس میں سے یہ جائیداد باقی رہی اور اس النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ جائیداد سے نبی صلی الم صلی علم اپنے گھر والوں کو ان کے حَيَاتَهُ أَنْشُدُكُمْ بِاللهِ هَلْ تَعْلَمُونَ ذَلِكَ ایک سال کا خرچ دیا کرتے تھے اور جو باقی رہتا وہ فَقَالُوا نَعَمْ ثُمَّ قَالَ لِعَلِيّ وَعَبَّاسٍ لے کر آپ اس کو وہاں خرچ کرتے جہاں اللہ کا مال أَنْشُدُكُمَا اللَّهَ هَلْ تَعْلَمَانِ ذَلِكَ؟ قَالَا خرچ کیا جاتا ہے۔ نبی صلی اہم اپنی زندگی میں اس پر نَعَمْ ثُمَّ تَوَفَّى اللهُ نَبِيَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ عمل درآمد کرتے رہے۔ میں تم لوگوں کو اللہ کی وَسَلَّمَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ أَنَا وَلِيُّ رَسُولِ قسم دے کر پوچھتا ہوں۔ کیا تم یہ جانتے ہو ؟ ان اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَبَضَهَا لوگوں نے کہا: ہاں۔ پھر حضرت عمر نے حضرت علیؓ اور حضرت عباس سے کہا: میں تم دونوں کو اللہ کی أَبُو بَكْرٍ فَعَمِلَ فِيهَا بِمَا عَمِلَ فِيهَا قسم دے کر پوچھتا ہوں۔ کیا تم جانتے ہو ؟ انہوں رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنْتُمَا نے کہا: ہاں۔ پھر اس کے بعد اللہ نے اپنے نبی صد الله علی تعلیم کو وفات دی اور حضرت ابوبکر نے کہا: میں حِينَئِذٍ وَأَقْبَلَ عَلَى عَلِيّ وَعَبَّاسٍ فَقَالَ مَل ال کو تَزْعُمَانِ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ فِيهَا كَذَا وَاللهُ رسول اللہ صلی علیم کا ولی ہوں اور حضرت ابو مد بکر نے الله يَعْلَمُ أَنَّهُ فِيهَا صَادِقٌ بَارٌ رَاشِدٌ تَابِعٌ اس جائیداد کو اپنے قبضے میں لیا اور اس میں وہی لِلْحَقِّ ثُمَّ تَوَفَّى اللَّهُ أَبَا بَكْرٍ فَقُلْتُ أَنَا تصرف کیا جو رسول الله صل اللام رسول اللہ صلی اللہ ہم اس میں کیا کرتے س ا ترجمه حضرت خليفة المسيح الراب الرابع : اور اللہ نے اُن کے اموال میں) سے اپنے رسول کو جو بطور غنیمت عطا کیا تو اس پر تم نے نہ گھوڑے دوڑائے اور نہ اونٹ لیکن اللہ اپنے رسولوں کو جن پر چاہتا ہے مسلط کر دیتا ہے اور اللہ ہر چیز پر جسے وہ چاہے دائمی قدرت رکھتا ہے۔“