صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 582
صحیح البخاری جلد ۱۶ AɅr ۹۶ - كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة وَالزُّبَيْرِ وَسَعْدٍ يَسْتَأْذِنُونَ؟ قَالَ نَعَمْ عبد الرحمن بن زبیر اور حضرت سعد کو ملنا چاہیں گے فَدَخَلُوا فَسَلَّمُوا وَجَلَسُوا فَقَالَ هَلْ وہ اجازت مانگ رہے ہیں۔حضرت عمرؓ نے فرمایا: فِي عَلِيّ وَعَبَّاسٍ؟ فَأَذِنَ لَهُمَا۔ہاں۔چنانچہ وہ اندر آئے اور انہوں نے سلام کیا قَالَ الْعَبَّاسُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ اقْضِ اور بیٹھ گئے، پھر یر فانے کہا: کیا آپ حضرت علی اور حضرت عباس کو ملنا چاہیں گے ؟ تو حضرت عمر نے بَيْنِي وَبَيْنَ الظَّالِمِ اسْتَبَّا فَقَالَ الرَّهْطُ لك ان دونوں کو اجازت دی۔حضرت عباس نے کہا: عُثْمَانُ وَأَصْحَابُهُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ امیر المومنین ! میرے اور اس ظالم کے درمیان فیصلہ اقْضِ بَيْنَهُمَا وَأَرِحْ أَحَدَهُمَا مِنَ الْآخَرِ کر دیں۔ان دونوں نے آپس میں ایک دوسرے فَقَالَ اتَّبِدُوا أَنْشُدُكُمْ بِاللهِ الَّذِي بِإِذْنِهِ کو بُرا بھلا کہا تو وہ لوگ ( یعنی ) حضرت عثمان اور ان تَقُومُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ هَلْ تَعْلَمُونَ کے ساتھی کہنے لگے: امیر المومنین ! ان دونوں کے أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ درمیان فیصلہ کر دیں اور ایک کو دوسرے سے چھٹکارا دلائیں۔حضرت عمر نے کہا: ذرا ٹھہرو۔میں قَالَ لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ يُرِيدُ تم کو اس اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس کے رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفْسَهُ حکم سے یہ آسمان اور زمین قائم ہیں، کیا تم جانتے ہو قَالَ الرَّهْطُ قَالَ ذَلِكَ فَأَقْبَلَ عُمَرُ عَلَى که رسول اللہ لا الم نے فرمایا: ہمارا وارث نہیں ہوتا عَلِيّ وَعَبَّاسِ فَقَالَ أَنْشُدُكُمَا بِاللَّهِ جو ہم چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔رسول اللہ هَلْ تَعْلَمَانِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ علی الا علم کی اس سے مراد اپنی ذات تھی۔اس جماعت عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَلِكَ؟ قَالَا نَعَمْ قَالَ نے کہا: بے شک آپ نے ایسا فرمایا تھا۔پھر حضرت عُمَرُ فَإِنِّي مُحَدِّثُكُمْ عَنْ هَذَا الْأَمْرِ عمر حضرت علی اور حضرت عباس کی طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے : میں تم دونوں سے اللہ کی قسم إِنَّ اللَّهَ كَانَ خَصَّ رَسُولَهُ صَلَّى اللهُ دے کر پوچھتا ہوں۔کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَالِ بِشَيْءٍ لَمْ عالم نے ایسا فرمایا تھا؟ ان دونوں نے کہا: ہاں۔يُعْطِهِ أَحَدًا غَيْرَهُ فَإِنَّ اللَّهَ يَقُولُ مَا حضرت عمرؓ نے کہا: اب میں اس معاملے کی حقیقت افَاءَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْهُمْ فَمَا اَوْجَفْتُم تم سے بیان کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ نے اس مال میں (الحشر: ٧) الآيَةَ فَكَانَتْ هَذِهِ خَالِصَةً اپنے رسول صلی ایام کے لئے کچھ حصہ مخصوص کر دیا