صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 36
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۳۶ ۸۸ کتاب استتابة المرتدين۔۔۔ان کی زندگی کا مقصد ہی یہ تھا کہ نعوذ باللہ آنحضرت مئی یہ کام کی جان لیں، وہی آپ پر اپنی جانیں نثار کرنے والے بن گئے۔پس اللہ تعالیٰ کی ڈھیل میں بڑی حکمت ہے۔اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ میں ان کا حساب نہیں لوں گا بلکہ مؤاخذہ میں ڈھیل ہے۔اور فرمایا جب مؤاخذہ کا وقت آئے گا تو پھر اس کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔“ خطبات مسرور ، خطبه جمعه فرموده ۱۴ مارچ ۲۰۰۸ء، جلد ۶ صفحه ۱۱۲) يحْيِي نَبِيًّا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ ضَرَبَهُ قَوْمُهُ فَأَدْمَوْهُ : آپ نبیوں میں سے ایک نبی کا واقعہ بیان کر رہے ہیں جس کو اس کی قوم نے اتنا مارا کہ اُس کو لہو لہان کر دیا۔علامہ بدر الدین عینی لکھتے ہیں کہ تخیکی نبیا النَّہی، هُوَ الحاکی والمحكى عَنهُ ، وَيُحتمل أَن يكون هَذَا النَّبِي هُوَ نوح عَلَيْهِ السَّلَام لأن قومه كَانُوا يضربونه حَتَّى يغمى عَلَيْهِ ثُمَّ يفيق فَيَقُول: اهدِ قومى فإنهم لا يعلمون أخرجه ابن عساکر في تاريخ دمشق في ترجمة نوح عَلَيْهِ السَّلام من حَدِيث الأَعمش عن مُجَاهِد عَن عبيد بن عمير به قوله: أدموها بفتح الميم أَي: جرحوا بحيث جرى عَلَيْهِ اللہ۔(عمدۃ القاری، جزء ۲۴ صفحہ ۸۴) اس سے مراد آپ خود ہی ہیں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ نبی نوح علیہ السلام ہوں کیونکہ حضرت نوح کی قوم اُن کو اتنا مارتی تھی کہ وہ بے ہوش ہو جاتے تھے ، پھر ہوش میں آتے اور پھر دعا کرتے تھے: اے اللہ ! میری قوم کو ہدایت دے کیونکہ ان کو علم نہیں ہے۔ابن عساکر نے تاریخ دمشق میں حضرت نوح علیہ السلام کے عنوان کے تابع عبید بن عمیر کی یہ روایت بسند مجاہد اور اعمش نقل کی ہے۔اُدھوہ یعنی انہوں نے ( حضرت نوح علیہ السلام کو اتناز خمی کر دیا کہ ان سے خون جاری ہو گیا۔بَاب ٦ : قَتْلُ الْخَوَارِجِ وَالْمُلْحِدِينَ بَعْدَ إِقَامَةِ الْحُجَّةِ عَلَيْهِمْ باغیوں اور بے دینوں کو اُن پر حجت قائم کرنے کے بعد مار ڈالنا وَقَوْلُ اللهِ تَعَالَى وَمَا كَانَ اللهُ لِيُضِلُّ اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: اور اللہ ایسا نہیں کہ اُن قَوْما بَعدَ اذْهَل لهُم حَتَّى يُبَيِّنَ لَهُمُ ما لوگوں کو بعد اس کے کہ اُس نے اُن کی راہنمائی کی يَتَّقُونَ (التوبة : ١١٥) وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ گمراہ کر دے جب تک کہ اُن سے وہ باتیں کھول يَرَاهُمْ شِرَارَ خَلْقِ اللهِ وَقَالَ إِنَّهُمُ کر بیان کر دے جس سے کہ وہ بچیں۔اور حضرت انْطَلَقُوا إِلَى آيَاتٍ نَزَلَتْ فِي الْكُفَّارِ ابن عمر اُن لوگوں کو اللہ کی مخلوق میں سے بدترین سمجھا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ اُنہوں نے اُن فَجَعَلُوهَا عَلَى الْمُؤْمِنِينَ۔آیتوں کو لے لیا جو کفار کے متعلق نازل ہوئی تھیں اور اُن کو مؤمنوں پر چسپاں کر دیا۔