صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 35
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۳۵ بابه ۸۸- کتاب استتابة المرتدين۔۔۔۔ ٦٩٢٩ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ ۶۹۲۹ : عمر بن حفص نے ہم سے بیان کیا کہ میرے حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَسُ قَالَ باپ نے ہمیں بتایا۔ اعمش نے ہم سے بیان کیا۔ حَدَّثَنِي شَقِيقٌ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ كَأَنِي اعمش نے کہا: شقیق ( بن سلمہ) نے مجھے بتایا۔ شقیق أَنْظُرُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے کہا: حضرت عبد اللہ بن مسعود) نے کہا: جیسے يَحْكِي نَبِيًّا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ ضَرَبَهُ قَوْمُهُ میں اب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں کہ آپ نبیوں میں سے ایک نبی کا واقعہ بیان کر رہے فَأَدْمَوْهُ فَهُوَ يَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ ہیں جس کو اس کی قوم نے اتنا مارا کہ اس کو لہولہان وَيَقُولُ رَبِّ اغْفِرْ لِقَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا کر دیا۔ وہ اپنے چہرے سے خون صاف کر رہا تھا اور يَعْلَمُونَ۔ طرفه: ٣٤٧٧۔ یہ دعا کر رہا تھا: اے میرے رب ! میری قوم سے در گزر فرما کیونکہ وہ نہیں جانتے۔ تشریح : باب ۵ بلا عنوان ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ باب پچھلے باب (۴) کے ہی ذیل میں ہے۔ امام بخاری ابواب اور روایات کی ترتیب سے مضامین کا تسلسل بیان کرتے ہیں۔ گزشتہ باب اور روایات سے امام بخاری نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ کا یہ پہلو اجاگر کیا ہے کہ آپ نے سب و شتم کرنے والوں اور گستاخی کے مرتکب لوگوں کو قتل کرنے کی اجازت نہیں دی۔ زیر باب روایت سے امام بخاری نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا یہ پہلو نمایاں کر کے دکھایا ہے کہ آپ کو شدید اذیت دینے والوں کے لئے آپ کی رحمت دعا بن کر ان کی ہدایت کی طلبگار بنی اور آپ کی یہ دردمندانہ دعائیں ان کی ہدایت کا موجب بنیں۔ یہ ہے رحمتہ اللعالمین کا اُسوہ جس کے نتیجہ میں آپ کو گالیاں دینے والے آپ پر درود بھیجنے والے بن گئے۔ اللهم صل علی محمد و آل محمد حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: آنحضرت صلی العلم رت صلی السلام نے اللہ تعالیٰ کی اس صفت حلیم کو خوب سمجھا ہے تبھی تو طائف کے سفر میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس بد قماش قوم کو ختم کرنے کے لئے کہنے پر آپ نے اس حلیم کا پر تو بنتے ہوئے عرض کی کہ اے اللہ ! میں اُمید کرتا ہوں کہ ان کی نسل میں سے تیری عبادت کرنے والے پیدا ہوں گے اور تجھ سے دعا بھی کرتا ہوں اور تو میری اس دعا کو قبول کر۔ اور پھر اس قوم میں سے دنیا نے دیکھا کہ ایک خدا کی عبادت کرنے والے پیدا ہوئے۔ وہ جو آپ کی جان لینا چاہتے تھے،