صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 574 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 574

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۵۷۴ ۹۲ - کتاب الاعتصام بالكتاب والسنة چوتھی غلطی یہ لگ رہی تھی کہ بعض لوگوں کے نزدیک شریعت صرف کلام الہی تک محدود تھی۔نبی کا شریعت سے کوئی تعلق نہ سمجھا جاتا تھا جیسا کہ چکڑالوی کہتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کے متعلق بتایا کہ شریعت کے دو حصے ہیں۔(۱) ایک اصولی حصہ ہے جس پر دینی، اخلاقی، تمدنی، سیاسی کاموں کا مدار ہے۔(۲) دوسرا حصہ جزئی تشریحات اور علمی تفصیلات کا ہے۔یہ خدا تعالیٰ نبیوں کے ذریعہ کراتا ہے تاکہ نبیوں سے بھی مخلوق کو تعلق پید اہو اور وہ لوگوں کے لئے اسوہ بنیں۔پس شریعت میں نبی کی تشریحات بھی شامل ہیں۔<< مسیح موعود کے کارنامے ، انوار العلوم جلد ۱۰ صفحہ ۱۷۶، ۱۷۷) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: بغیر نمونہ کے دوسرا انسان اتباع کیسے پوری کر سکتا ہے۔اِن كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِی ( آل عمران: ۳۲) کہہ کر آنحضرت صلی عوام نے ہر ایک طبقہ کے انسان کو مخاطب کیا ہے کہ ہر ایک قسم کا سبق مجھ سے لو اور ظاہر ہے کہ جب تک ایک اُسوہ سامنے نہ ہو ، انسان عمل درآمد سے قاصر رہتا ہے۔ہر ایک قسم کے کمال کے حصول کے لیے نمونہ کی ضرورت ہے۔انسانی طبائع اسی قسم کی واقع ہوئی ہیں کہ وہ صرف قول سے متاثر نہیں ہوتیں جب تک اس کے ساتھ فعل نہ ہو۔اگر صرف قول ہو تو صد با اعتراض لوگ کرتے ہیں۔دین کی باتوں کو سن کر کہا کرتے ہیں کہ یہ سب باتیں کہنے کی ہیں، کون ان کو بجالا سکتا ہے، یونہی بنا چھوڑی ہیں اور ان اعتراضوں کا رڈ نہیں ہو سکتا جب تک ایک انسان عمل کر کے دکھانے والا نہ ہو۔“ (ملفوظات، جلد ۴ صفحہ ۹۱) نیز آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی محبت کامل طور پر انسان اپنے اندر پیدا نہیں کر سکتا جب تک نبی کریم صلى ال عالم کے اخلاق اور طرز عمل کو اپنار ہبر اور ہادی نہ بناوے۔چنانچہ خود اللہ تعالیٰ نے اس کی بابت فرمایا: قُلْ إِن كُنتُم تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي (آل عمران: ۳۲) یعنی محبوب الہی بننے کے لیے ضروری ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی جاوے۔سچی اتباع آپ کے اخلاق فاضلہ کا رنگ اپنے اندر پیدا کرنا ہوتا ہے مگر افسوس ہے کہ آج کل لوگوں نے اتباع سے مراد صرف رفع یدین، آمین بالجہر اور