صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 573 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 573

صحيح البخاری جلد ۱۶ ۵۷۳ ۹۶ - کتاب الاعتصام بالكتاب والسنة فَاتَّخَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَ مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی تو لوگوں نے بھی سونے النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي کی انگوٹھیاں بنوائیں۔پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اتَّخَذْتُ خَاتَمَا مِنْ ذَهَبٍ فَنَبَذَهُ فرمایا: میں نے سونے کی انگوٹھی بنوائی تھی اور یہ وَقَالَ إِنِّي لَنْ أَلْبَسَهُ أَبَدًا فَنَبَدَ النَّاسُ کہہ کر آپ نے اسے اتار دیا اور فرمایا: اب میں اس کو کبھی نہیں پہنوں گا۔یہ دیکھ کر لوگوں نے بھی خَوَاتِيمَهُمْ۔اپنی اپنی انگوٹھیاں اُتار دیں۔أطرافه: ٥٨٦٥، ٥٨٦٦، ٥٨٦ ٥٨٧٣، ٥٨٧٦ ٦٦٥١- ريح : الاقْتِدَاءُ بِأَفْعَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نبی صلی اللہ علیہ سلم کے افعال کی پیروی کرنا۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے افعال کئی قسم کے ہیں۔ایک وہ اعمال ہیں جو آپ ہمیشہ کرتے اور جن کے کرنے کا آپ نے دوسروں کو بھی حکم دیا اور فرمایا: اس طرح کیا کرو، ان کا کرنا واجب ہے۔(۲) وہ اعمال جو عام طور پر آپ کرتے اور دوسروں کو کرنے کی نصیحت بھی کرتے ، یہ سنن ہیں۔(۳) وہ اعمال جو آپ کرتے اور دوسروں کو فرماتے کہ کر لیا کرو تو اچھے ہیں۔یہ مستحب ہیں۔(۴) وہ اعمال جنہیں آپ مختلف طور پر ادا کرتے۔ان کا سب طریقوں سے کرنا جائز ہے۔(۵) ایک وہ اعمال ہیں جو کھانے پینے کے متعلق تھے۔ان میں نہ آپ دوسروں کو کرنے کے لئے کہتے اور نہ کوئی ہدایت دیتے۔آپ ان میں عرب کے رواج پر عمل کرتے۔ان احکام میں ہر ملک کا انسان اپنے ملک کے رواج پر عمل کر سکتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے گوہ لائی گئی جو آپ نے نہ کھائی۔اس پر پوچھا گیا کہ اس کا کھانا حرام ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، حرام نہیں مگر ہمارے ہاں لوگ اسے کھاتے نہیں۔اس لئے میں بھی اسے نہیں کھاتا۔اس سے یہ نتیجہ نکلا کہ جن امور میں شریعت ساکت ہو اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ثابت نہ ہو انہیں حتی الوسع ملک کے دستور اور رواج کے مطابق کر لینا چاہیئے تا کہ خواہ مخواہ لوگوں میں نفرت نہ پیدا ہو۔ایسے امور سنت نہیں کہلاتے۔جوں جوں ملک کے حالات کے مطابق لوگ ان میں تبدیلی کرتے جائیں اس پر عمل کرنا چاہیئے۔