صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 575 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 575

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۵۷۵ ٩٦ - كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة رفع سبابہ ہی لے لیا ہے۔باقی امور کو جو اخلاق فاضلہ آپ کے تھے اُن کو چھوڑ دیا۔یہ منافق کا کام ہے کہ آسان اور چھوٹے اُمور کو بجالاتا ہے اور مشکل کو چھوڑتا ہے۔سچے مومن اور مخلص مسلمان کی ترقیوں اور ایمانی درجوں کا آخری نقطہ تو یہی ہے کہ وہ سچا متبع ہو اور آپ کے تمام اخلاق کو حاصل کرے۔جو سچائی کو قبول نہیں کرتاوہ اپنے آپ کو دھوکا دیتا ہے۔کروڑوں مسلمان دنیا میں موجود ہیں اور مسجدیں بھی بھری ہوئی نظر آتی ہیں مگر کوئی برکت اور ظہور ان مسجدوں کے بھرے ہونے سے نظر نہیں آتا۔اس لیے کہ یہ سب کچھ جو کیا جاتا ہے محض رسوم اور عادات کے طور پر کیا جاتا ہے۔وہ سچا اخلاص اور وفاجو ایمان کے حقیقی لوازم ہیں، ان کے ساتھ پائے نہیں جاتے۔سب عمل ریا کاری اور نفاق کے پردوں کے اندر مخفی ہو گئے ہیں۔“ آپ نے فرمایا: ( ملفوظات، جلد ۲ صفحه ۶۲) "جو شخص یہ کہتا ہے کہ آنحضرت علی ایم کی اتباع کے بغیر نجات ہو سکتی ہے وہ جھوٹا ہے۔خدا تعالیٰ نے جو بات ہم کو سمجھائی ہے وہ بالکل اس کے برخلاف ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ (آل عمران: ۳۲) اے رسول ( محمد صلی اللہ علیہ وسلم) ان لوگوں کو کہدے کہ اگر تم خدا تعالیٰ سے پیار کرتے ہو تو آؤ میری پیروی کرو تم خدا تعالیٰ کے محبوب بن جاؤ گے۔بغیر متابعت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوئی شخص نجات نہیں پاسکتا۔جو لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بغض رکھتے ہیں اُن کی کبھی خیر نہیں۔“ (ملفوظات، جلد ۵ صفحہ ۲۴) بَاب ٥: مَا يُكْرَهُ مِنَ التَّعَمُّقِ وَالتَّنَازُع {فِي العِلْمِ} وَالْخُلُقِ فِي الدِّينِ وَالْبِدَعِ علم میں حد سے زیادہ گہر اجانا اور جھگڑا کرنا نیز دین اور بدعات میں غلو کرناجو نا پسندیدہ ہے لِقَوْلِهِ تَعَالَى ياهل الكتب لا تَغْلُوا في اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق: اے اہل کتاب دِينِكُمْ وَلَا تَقُولُوا عَلَى اللَّهِ إِلَّا الْحَقِّ۔اپنے دین میں حد سے نہ بڑھو اور اللہ پر سوائے ے یہ الفاظ عمدۃ القاری کے مطابق ہیں۔(عمدۃ القاری، جزء ۲۵ صفحہ ۳۷) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔