صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 570 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 570

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۵۷۰ ٩٦ - كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة یا کوئی علم میرے پاس ایسا ہے جسے میں چھپا کر رکھتا ہوں۔میں نے کبھی کوئی بات دوسروں سے چھپا کر نہیں رکھی۔جو کچھ آتا ہے وہ بتا دیا کرتا ہوں۔اب خواہ تم کتنے اعتراض کرو۔میں نے تو بہر حال وہی کچھ کہنا ہے جو میں جانتا ہوں۔اس سے زیادہ کچھ بتا نہیں سکتا۔اب کسی بات کے متعلق دو ہی صورتیں ہو سکتی ہیں۔یا تو جو بات میں نے بتائی ہے وہ معقول ہے تم اُسے سمجھے نہیں یا پھر جو بات میں نے بتائی ہے وہ غلط ہے اور تمہارا اعتراض درست ہے۔اگر جو کچھ میں نے بتایا ہے وہ غلط ہے تو یہ تو تم جانتے ہی ہو کہ میں بد دیانتی سے تم کو دھوکا دینے کے لئے کوئی بات نہیں کہتا۔جو کچھ کہتا ہوں اُسے صحیح سمجھتے ہوئے ہی کہتا ہوں۔اس صورت میں خواہ تم کتنے اعتراض کرو میں تو وہی کہتا چلا جاؤں گا جو میں نے ایک دفعہ کہا اور اگر میں نے جو کچھ کہا ہے وہ درست ہے تو اُس پر اعتراض کرنے کے یہ معنے ہیں کہ وہ بات تمہاری سمجھ میں نہیں آئی۔ایسی حالت میں اگر تم اعتراض کرو گے تو اس سے تمہاری طبیعت میں ضد پیدا ہو گی، فائدہ کچھ نہیں ہو گا۔اِس لئے میری نصیحت یہ ہے کہ تم سوالات نہ کیا کرو بلکہ خود سوچنے اور غور کرنے کی عادت ڈالو۔اگر کوئی بات تمہاری سمجھ میں آجائے تو اُسے مان لیا کرو اور اگر سمجھ میں نہ آئے تو اللہ تعالیٰ سے دُعا کیا کرو کہ وہ خود تمہیں سمجھائے اور اپنے پاس سے علم عطا فرمائے۔اس نصیحت کے بعد میں نے پھر حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ سے کبھی کوئی سوال نہیں کیا۔کچھ دن گزرے تو آپ نے حافظ صاحب کو بھی ڈانٹ دیا کہ وہ دورانِ سبق میں سوالات نہ کیا کریں۔نتیجہ یہ ہوا کہ ہم نے روزانہ بخاری کا آدھ آدھ پارہ پڑھنا شروع کر دیا۔بے شک اور علوم بھی ہم پڑھتے تھے لیکن بہر حال آدھ پارہ روزانہ تبھی ختم ہو سکتا ہے جب طالب علم اپنے منہ پر مہر لگالے اور وہ فیصلہ کرلے کہ میں نے اُستاد سے کچھ نہیں پوچھنا۔جو کچھ وہ بتائے گا اُسے سنتا چلا جاؤں گا۔بہر حال حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے اس روکنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ میں نے خود قرآن کریم پر غور کرناشروع کر دیا اور اس کا فائدہ یہ ہوا کہ میں ابھی طالب علم ہی تھا کہ میں نے خود درس دینا شروع کر دیا۔گویا حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سوالات سے روک کر میرے ذہن کو اس طرف متوجہ کر دیا کہ مجھے خود بھی قرآن کریم پر غور کرنے کی عادت ڈالنی چاہیئے۔