صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 571
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۵۷۱ ٩٦ - كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة اسی طرح اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو سوالات سے روک کر اُن کی فطرت اور ذہنیت کو بلند کرنے کی کوشش کی ہے۔بے شک بعض اوقات دوسرے سے بھی کوئی بات پوچھنی پڑتی ہے مگر زیادہ تر خود ہی غور کرنے کی عادت ڈالنی چاہیئے۔میں نے دیکھا ہے قرآن کریم میں آدم کا قصہ آجائے تو لوگ بڑی کثرت سے سوال کرنے لگ جاتے ہیں حالانکہ اگر سوال کرنے کی بجائے وہ خود سوچیں تو اُن کی تمام مشکلات حل ہو جائیں۔اس جگہ صرف ایسے ہی سوالات سے روکا گیا ہے جو انسان کے ایمان کو تباہ کر دیتے ہیں اور اُس کے اندر کفر پیدا کر دیتے ہیں۔ورنہ عام سوالات سے جو تحقیق کی غرض سے کئے جائیں اسلام منع نہیں کرتا۔وَمَنْ يَتَبَذَلِ الْكُفْرَ بِالْإِيمَانِ فَقَدْ ضَلَّ سَوَاءَ السَّبِيلِ۔فرماتا ہے: سوال کی اصل غرض تو علم کی زیادتی ہوتی ہے مگر جو شخص گستاخانہ سوالات کرتارہتا ہے اور خدا اور اس کے رسول اور اس کے کلام کا ادب ملحوظ نہیں رکھتا وہ اس گستاخی کے نتیجہ میں اپنے پہلے ایمان کو بھی کھو بیٹھتا ہے اور ایمان میں ترقی کرنے کے بجائے کفر کی دہلیز تک پہنچ جاتا ہے۔اگر وہ دائرہ ادب کے اندر رہتے ہوئے نیک نیتی سے سوال کرتا تو اس کی یہ حالت نہ ہوتی۔پس انسان کو چاہیے کہ وہ ہمیشہ اپنے قلب کا جائزہ لیتار ہے اور لغو بحثوں اور لغو سوالات میں حصہ نہ لیا کرے۔حضرت مولوی عبد اللہ صاحب غزنوی جنہوں نے ایک دفعہ رویا میں دیکھا تھا کہ قادیان سے ایک نور نکلا ہے مگر میری اولا د اس سے محروم رہی ہے۔اُن کے پاس ایک دفعہ کوئی مولوی بحث کے لئے آگیا انہوں نے فرمایا کہ میں بحث کے لئے تیار ہوں بشرطیکہ مولوی صاحب کی نیت بخیر ہو۔معلوم ہوتا ہے وہ مولوی اپنے دل میں اللہ تعالیٰ کی خشیت رکھتا تھا۔اُس نے یہ فقرہ سُنتے ہی کہہ دیا کہ میں آپ سے بحث نہیں کرتا کیونکہ مناظرات میں عمومانیت بخیر نہیں ہوتی بلکہ صرف اتنا ہی مقصد ہوتا ہے کہ دوسرا فریق ذلیل ہو جائے اور لوگوں میں واہ واہ کا ایک شور مچ جائے۔غرض چونکہ بعض سوال حق پانے کے لئے نہیں ہوتے بلکہ اُن کی غرض محض بحث و مباحثہ ، لڑائی اور دوسرے کو شر مندہ کرنا ہوتی ہے اس لئے فرماتا ہے کہ مومنوں کو اس قسم کے سوالات سے بچنا چاہیئے۔“ ( تفسير كبير، تفسیر سورة البقرة آيت أم تُرِيدُونَ أَن تَسْتَلُوا رَسُولَكُم ، جلد ۲ صفحه ۱۰۸ تا ۱۱۱)