صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 569
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۵۶۹ ٩٦ - كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة خدا کو پکڑ کر ہمارے سامنے لے آ، تب ہم ایمان لائیں گے۔اسی طرح تو رات پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل حضرت موسیٰ علیہ السلام سے بات بات پر سوال کیا کرتے تھے مگر صحابہ کی یہ حالت تھی کہ وہ کہتے ہیں: ہم اس بات کا انتظار کیا کرتے تھے کہ کوئی اعرابی آئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی سوال پوچھے تاکہ ہم بھی سُن لیں۔گویا انہیں اس قدر وقار اور ضبط نفس حاصل تھا که خود کوئی سوال پوچھنے کی جرات نہیں کرتے تھے۔بہر حال مسلمانوں کو صرف ایسے سوال کرنے سے روکا گیا ہے جو سنت اللہ اور قانونِ شریعت کے خلاف ہوں یا اپنے اندر گستاخی اور بے ادبی کارنگ رکھتے ہوں یا جن سے محض وقت کا ضیاع ہوتا ہو، کوئی حقیقی فائدہ حاصل نہ ہو۔مجھے یاد ہے حافظ روشن علی صاحب اور میں دونوں حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پڑھا کرتے تھے۔بعض اور دوست بھی ہمارے اس سبق میں شریک تھے۔حافظ صاحب کی عادت تھی کہ وہ بات بات پر بال کی کھال اُتارنے کی کوشش کرتے اور بڑی سختی سے جرح کرتے تھے۔ابھی ہم نے بخاری کا سبق شروع ہی کیا تھا اور صرف دو چار سبق ہی ہوئے تھے کہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ اُن کے سوالوں سے تنگ آگئے۔وہ سبق کو چلنے ہی نہیں دیتے تھے۔پہلے ایک اعتراض کرتے اور جب حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ اس کا جواب دیتے تو وہ اس جواب پر اعتراض کر دیتے۔پھر جواب دیتے تو جواب الجواب پر اعتراض کر دیتے اور اس طرح اُن کے سوالات کا ایک لمبا سلسلہ شروع ہو جاتا۔کہتے ہیں خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے۔میری عمر اس وقت ہمیں اکیس سال کی تھی اور طبیعت بھی تیز تھی۔حافظ صاحب کو سوالات کرتے دیکھا تو میں نے خیال کیا کہ میں کیوں پیچھے رہوں۔چنانچہ چوتھے دن میں نے بھی سوالات شروع کر دیئے۔ایک دن تو حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ چُپ رہے مگر دوسرے دن جب میں نے بعض سوالات کئے تو آپ نے فرمایا: حافظ صاحب کے لئے سوالات کرنے جائز ہیں، تمہارے لئے نہیں۔پھر آپ نے فرمایا: دیکھو تم بڑی مدت سے مجھ سے ملنے والے ہو اور تم میری طبیعت سے اچھی طرح واقف ہو۔کیا تم کہہ سکتے ہو کہ میں بخیل ہوں