صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 568 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 568

صحيح البخاری جلد ۱۶ ۵۲۸ ۹۲ - کتاب الاعتصام بالكتاب والسنة ۷۲۹۷) جو کہ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے مروی ہے اُس میں یہ ذکر ہے کہ روح کے متعلق یہ سوال یہود نے مدینہ میں ان کی موجودگی میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا اور حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کی ہی روایت ہے کہ یہ سورۃ مکی ہے۔( صحیح البخاری، روایت نمبر ۴۷۰۸) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”میرے نزدیک پہلی دفعہ سوال مکہ میں ہی ہوا ہے اور وہیں اس کا جواب ملا ہے۔ممکن ہے مدینہ میں بھی یہود نے سوال کیا ہو بلکہ اغلب ہے۔جب مدینہ میں یہ سوال ہوا ہو گا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت جواب میں پڑھ دی ہو گی۔“ ( تفسیر کبیر، تفسیر سورۃ بنی اسرائیل، آیت وَيَسْتَلُونَكَ عَنِ الرُّوح ، جلد ۴ صفحه ۳۸۱) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” نادان عیسائی مصنف اعتراض کیا کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نعوذ باللہ اپنی کم علمی چھپانے کے لئے صحابہ کو سوال کرنے سے منع فرمایا کرتے تھے۔لیکن قرآن کریم کی یہ آیت بتاتی ہے کہ صحابہ کو سوال کرنے سے نہیں بلکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ کے لوگوں جیسے سوال کرنے سے روکا گیا تھا۔اصل بات یہ ہے کہ کوئی سوال زیادتی علم کے لئے ہوتا ہے اور کوئی کج بحثی کے لئے۔کوئی بے ادبی کے لئے ہوتا ہے اور کوئی تحقیر و تذلیل کے لئے۔غرض ہر سوال الگ رنگ رکھتا ہے۔معقول انسان کبھی بھی کسی غیر معقول سوال کی دوسرے کو اجازت نہیں دے سکتا۔اگر کوئی لڑکا کالج میں پروفیسر کے سامنے کھڑے ہو کر سوال پر سوال کرتا چلا جائے تو وہ لازماً اُسے ڈانٹے گا اور کہے گا کہ تم فضول وقت ضائع کر رہے ہو مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہو گا کہ پروفیسر اپنی کم علمی کی وجہ سے اسے سوال کرنے سے روک رہا ہے۔اسی طرح قرآن کریم نے لغو اور بے ہودہ سوالات کو نا پسند کیا ہے نہ کہ محض سوالات کو۔چنانچہ سُہل موسی میں اسی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام سے لوگ جس قسم کے سوالات کیا کرتے تھے اُن کا نمونہ قرآن کریم کی اس آیت میں دکھایا گیا ہے کہ يَسْتَلْكَ أَهْلُ الكتب أن تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتبًا مِنَ السَّمَاءِ فَقَدْ سَأَلُوا مُوسَى أَكْبَرَ مِنْ ذَلِكَ فَقَالُوا ارنا الله (النساء : ۱۵۴) یعنی یہ اہل کتاب تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ تو آسمان سے اُن پر ایک کتاب اُتار کرلے آئے۔یہ سوال تو انہوں نے پھر بھی کم کیا ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام سے تو اس سے بھی بڑا سوال کیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ تو