صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 567
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۵۶۷ -۹۶ - کتاب الاعتصام بالكتاب والسنة مَالِكِ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ (انہوں نے کہا: ) میں نے حضرت انس بن مالک عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَنْ يُبْرَحَ النَّاسُ يَتَسَاءَلُونَ سے سنا۔وہ کہتے تھے: رسول اللہ کی ایم نے فرمایا: حَتَّى يَقُولُوا هَذَا اللَّهُ خَالِقُ كُلَّ شَيْءٍ لوگ سوالات کرنے سے ہر گز نہیں ملیں گے یہاں تک کہ یہ بھی کہہ دیں گے : یہ تو ہوا اللہ جس نے ہر فَمَنْ خَلَقَ الله۔عن شے کو پیدا کیا تو پھر اللہ کو کس نے پیدا کیا؟ ۷۲۹۷: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ :۷۲۹۷ محمد بن عبید بن میمون نے ہم سے بیان کیا مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ عَنِ کہ عیسی بن یونس نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اعمش الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ سے، اعمش نے ابراہیم سے، ابراہیم نے علقمہ سے، ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ علقمہ نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي کے ساتھ مدینہ کے ایک کھیت میں تھا اور آپ حَرْثٍ بِالْمَدِينَةِ وَهُوَ يَتَوَكَّأُ عَلَى کھجور کی چھڑی پر سہارا لئے جارہے تھے۔آپ عَسِيبٍ فَمَرَّ بِنَفَرٍ مِّنَ الْيَهُودِ فَقَالَ یہودیوں کی ایک جماعت کے پاس سے گزرے تو بَعْضُهُمْ سَلُوهُ عَنِ الرُّوحِ وَقَالَ اُن میں سے بعض نے کہا: ان سے روح کے متعلق بَعْضُهُمْ لَا تَسْأَلُوهُ وَلَا يُسْمِعُكُمْ مَا پوچھو اور بعض نے کہا: ان سے نہ پوچھو۔کہیں تمہیں تَكْرَهُونَ فَقَامُوا إِلَيْهِ فَقَالُوا يَا أَبَا ایسی بات نہ سنادیں جو تمہیں بُری لگے۔پھر وہ اُٹھ الْقَاسِمِ حَدِّثْنَا عَنِ الرُّوحِ فَقَامَ سَاعَةً کر آپ کے پاس آئے اور کہنے لگے : ابوالقاسم ! يَّنْظُرُ فَعَرَفْتُ أَنَّهُ يُوحَى إِلَيْهِ فَتَأَخَّرْتُ روح کے متعلق ہمیں بتائیں۔آپ تھوڑی دیر کھڑے دیکھتے رہے۔میں سمجھا کہ آپؐ پر وحی ہو عَنْهُ حَتَّى صَعِدَ الْوَحْيُ ثُمَّ قَالَ: وَ رہی ہے اور یہ خیال کر کے آپ سے ایک طرف يسْتَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ ہٹ گیا یہاں تک کہ وحی چلی گئی تو آپ نے فرمایا: رتي (بنی اسرائیل: ٨٦)۔اور وہ تجھ سے روح کے متعلق سوال کرتے ہیں۔تو أطرافه ۱۲۵، ٤٧۲۱، ٧٤٥٦ ٧٤٦٢۔کہہ دے کہ روح میرے رب کے حکم سے ہے۔تشريح : مَا يُكْرَهُ مِنْ كَثْرَةِ السُّؤَالِ وَمِنْ تَكَلُفِ مَالًا يَغْنِيهِ: بہت سوالات کرنا اور جس سے اس کو سروکار نہیں اس کو کرنے کی تکلیف اُٹھانا نا پسندیدہ ہے۔زیر باب آخری روایت (نمبر