صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 34 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 34

صحيح البخاری جلد ١٦ ۳۴ ۸۸- کتاب استتابة المرتدين۔۔۔ اسْتَأْذَنَ رَهْطُ مِنَ الْيَهُودِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا السَّامُ عَلَيْكَ: یہودیوں میں سے کچھ لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کی اجازت مانگی۔ وہ آئے تو کہنے لگے : السامُ عَلَيْكَ۔ علامہ بدر الدین عینی لکھتے ہیں کہ دخط کا اطلاق دس سے کم مردوں پر کیا جاتا ہے جن میں عورت نہ ہو، اس کی جمع اربط اور ارهاط ہوتی ہے۔ (عمدۃ القاری، جزء ۲۴ صفحہ ۸۳) یہود کے السّامُ عَلَيْكَ کے جواب میں دو روایات ۶۹۲۶ اور ۱۹۲۷ میں وَعَلَيْكَ اور وَعَلَيْكُمْ کے الفاظ ہیں جبکہ تیسری روایت ۱۹۲۸ میں عَلَيْكَ کا لفظ ہے۔ یعنی اس میں ”و“ نہیں ہے۔ بغیر واو کے ہی درست معلوم ہوتا ہے ۔ وتا ہے کیونکہ وَعَلَيْكَ يا وَعَلَيْكُمْ كا مطل کا مطلب ہے ہم پر بھی ہو اور تم پر بھی جبکہ یہود کی بد دعا کو اپنے اوپر لینے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دوسری جگہ وضاحت بھی فرمائی ہے۔ فرمایا: ان کی بد دعا میرے خلاف قبول نہیں ہوتی جبکہ میری دعا ان کے خلاف قبول ہوتی ہے۔ پس زده واد“ کا یہ لفظ راویوں کی غلطی یا زبان زد عام السَّلامُ عَلَيْكُمْ کے جواب میں وَ عَلَيْكُمْ کہنے کی عادت کا نتیجہ ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔ آپ کے علامہ بدرالدین العینی لکھتے ہیں کہ جن روایات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر سب و رشتم کرنے والوں کے شتم کرنے و قتل کئے جانے کا ذکر ہے، اُن کو اُن کے سب و شتم کی وجہ سے قتل نہیں کیا گیا بلکہ اُن کا آپ کے خلاف جنگ کرنا اور کے خلاف جنگ کرنے والوں کی مدد کرنا اُن کے قتل کا سبب بنا۔ (عمدۃ القاری، جزء ۲۴ صفحہ ۸۲) ان واقعات سے ا یہود کی اخلاقی گراوٹ تو اظہر من الشمس ہے۔ اصل بات اور حقیقی روح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے وہ روشن پہلو ہیں جو ان روایات میں نظر آتے ہیں۔ آپؐ کی اعلیٰ ظرفی، وسعت حوصلہ، اپنی ذات کے لئے کبھی کسی سے انتقام نہ لینا اور باوجودیکہ آپ مسلمہ طور پر حاکم اعلیٰ اور مدینہ کی سوسائٹی کے صدر تھے اور یہ یہودی آپ کی رعایا تھے اور آپ ہر سزا دینے کے مجاز تھے مگر آپ کا ان یہود کی شرارتوں سے اعراض کرنا۔ آپؐ کا عفو، حلم، صبر اور رحم اپنے نقطۂ معراج پر دکھائی دیتا ہے۔ آپ کا تو کل علی اللہ اور إِنَّمَا أَشْكُوا بَنِى وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ (یوسف: ۸۷) یعنی میں اپنی پریشانی اور غم کی فریاد اللہ کے حضور کرتا ہوں اور منْ عَادَى لِي وَلِيًّا فَقَدْ أَذَنْتُهُ بِالْحَرْبِ (صحیح البخاری، کتاب الرقاق، باب التواضع، روایت نمبر ۶۵۰۲) یعنی جس نے میرے کسی ولی سے دشمنی کی تو پھر میں بھی اسے آگاہ کئے دیتا ہوں کہ میں اس سے لڑوں گا، کے مطابق آپ جانتے تھے کہ آپ کی طرف سے یہود کی ان گستاخیوں کی سزا خدا انہیں دے گا۔ اسی اسوۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو قیامت تک زندہ رکھنا ہر عاشق رسول کا کام ہے۔ اور واقعات نے یہ ثابت کیا کہ آپ کے قہار خدا نے ان یہودیوں پر کیسا قہر نازل کیا۔ وہ جلا وطن ہوئے، وہ قتل ہوئے اور عند اللہ مغضوب ہوئے۔ قرآن کریم نے ایسی گستاخیوں اور توہین کرنے والوں کے کئی واقعات ریکارڈ کئے ہیں مگر کسی جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کسی سزا کا ذکر نہیں کیا بلکہ ایسے ظالموں کو سزا دینے کا اختیار اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے چاہے وہ اس دنیا میں دے یا آخرت میں۔ اللہ تعالیٰ کی گرفت اور پکڑ ہی سب سے بڑی سزا ہے جو ان گستاخ لوگوں کو دی گئی۔