صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 33 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 33

صحیح البخاری جلد ۱۶ ایران ۸۸ کتاب استتابة المرتدين۔۔۔ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا السَّامُ عَلَيْكَ فَقُلْتُ میں سے کچھ لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بَلْ عَلَيْكُمُ السَّامُ وَاللَّعْنَةُ فَقَالَ يَا آنے کی اجازت مانگی۔ (وہ آئے) تو کہنے لگے: عَائِشَةُ إِنَّ اللَّهَ رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي السَّامُ عَلَيْكَ۔ (آپ پر موت آئے) میں نے الْأَمْرِ كُلِّهِ قُلْتُ أَوَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا ؟ کہا: بلکہ تم پر موت اور لعنت ہو۔ آپؐ نے فرمایا: عائشہ ! اللہ تو بہت نرمی کرتا ہے اور ہر بات میں قَالَ قُلْتُ وَعَلَيْكُمْ۔ نرمی کو پسند کرتا ہے۔ میں نے کہا: کیا آپ نے نہیں سنا جو اُنہوں نے کہا؟ آپ نے فرمایا: میں نے بھی ان کو وَعَلَيْكُمْ کہا ہے۔ أطرافه: ٢٩٣٥، ٦٠٢٤ ، ٦٠٣٠، ٦٢٥٦، ٦٣٩٥، ٦٤٠١۔ ٦٩٢٨ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى ۶۹۲۸: مسددنے ہم سے بیان کیا کہ یحی بن سعید بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سُفْيَانَ وَ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے سفیان بن عیینہ) اور قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ قَالَ مالک بن انس سے روایت کی۔ اُن دونوں۔ نے کہا: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عبد اللہ بن دینار نے ہم سے بیان کیا۔ عبداللہ نے يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کہا: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا۔ وَسَلَّمَ إِنَّ الْيَهُودَ إِذَا سَلَّمُوا عَلَى وہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے أَحَدِكُمْ إِنَّمَا يَقُولُونَ سَامٌ عَلَيْكَ فَقُلْ فرمایا: یہود جب تم میں سے کسی کو سلام کرتے ہیں تو وہ سَامٌ عَلَيْكَ ( تم پر ہلاکت ہو) ہی کہتے ہیں تو عَلَيْكَ۔ طرفه: ٦٢٥٧- تم کہو: عَلَيْكَ۔ تشريح : إِذَا عَرَّضَ الدِّينُ أَوْ غَيْرُهُ بِسَبِّب النبي ﷺ وَلَمْ يُصرح : اگر دی و غیره اشارے کنایہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دے اور تصریح نہ کرے۔ علامہ بدرالدین عینی لکھتے ہیں: التَّعْرِيض وَهُوَ خِلَافَ التَّصْرِيحُ، وَهُوَ نَوع مِنَ الْكِتَايَة ۔۔۔ التعريض المصطلح عَلَيْهِ وَهُوَ أَن يَسْتَعْمل لفظا في حقيقته يلوح به إلى معنى آخر يقصده (عمدۃ القاری، جزء ۲۴ صفحه ۸۲) یعنی تعریض تصریح کے برخلاف ہے اور یہ کنایہ کی ایک قسم ہے۔ تعریض اسے کہتے ہیں کہ ایک لفظ کے دو معنی ہوں، متکلم ایک معنی کا ارادہ کرے اور مخاطب کے ذہن میں دوسرا معنی ہو۔