صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 550
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۵۵۰ ۹۶ - كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة آپ بات تو ایسی مختصر فرمایا کرتے تھے جو چند الفاظ پر مشتمل ہوتی لیکن معانی کے لحاظ سے وہ انتہائی وسعت کی حامل ہوا کرتی تھی۔نیز بعفت کے لفظ سے دلیل پکڑتے ہوئے یہ بھی کہا گیا ہے کہ جوامع الکلم سے مراد قرآن کریم ہے جو الفاظ کے اختصار کے ساتھ ساتھ وسیع المعانی ہونے میں انتہاء کو پہنچا ہوا ہے۔(عمدۃ القاری، جزء ۲۵ صفحہ ۲۴) حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مجھے جوامع الکلم عطا کئے گئے ہیں۔یعنی مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے وہ طاقت اور وہ حکمت عطا فرمائی ہے کہ میر اکلام باوجود مختصر ہونے کے وسیع ترین معانی کا حامل ہوتا ہے اور میرے مونہہ سے نکلے ہوئے چھوٹے چھوٹے کلمات بھی بڑے بڑے علوم کا خزانہ ہوتے ہیں۔آپ کا یہ دعویٰ ایک خالی دعوی نہیں ہے جو مونہہ سے نکل کر ہوا میں پہنچتا اور ختم ہو جاتا ہے بلکہ ہر شخص جو آپ کی زندگی اور آپ کے کلام کا مطالعہ کرے گا وہ اس دعوی کی صداقت کو اپنے دل کی گہرائیوں میں یوں اُترتے دیکھے گا جس طرح کہ ایک مضبوط فولادی شیخ ایک لکڑی کے تختہ کے اندر داخل ہو کر اس کے ساتھ ہمیشہ کے لئے پیوست ہو جاتی ہے۔خاکسار راقم الحروف نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و سوانح کا کسی قدر مطالعہ کیا ہے اور میں سچ سچ کہتا ہوں کہ میں نے جب کبھی بھی آپ کی زبان مبارک سے نکلی ہوئی باتوں پر نظر ڈالی ہے تو خواہ آپ نے کوئی بات کیسی ہی سادگی اور کیسی ہی بے ساختگی کے ساتھ فرمائی ہو، میں نے اُس پر نظر ڈالتے ہی اسے علم کا ایک ایسا عظیم الشان سمندر پایا ہے جو اپنی حدود کی وسعت اور اپنے تموج کی رفعت میں یقینا دنیا کے پردے پر اپنی نظیر نہیں رکھتا۔“ ( مضامین بشیر، جلد اول صفحہ ۴۶۶) حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: احادیث سے معلوم ہے کہ تمام ملائکہ کا آفیسر جبرائیل امین ہے۔یعنی تمام محکمے نیکیوں کی تحریک کے جو قلب سے متعلق ہیں ان کا افسر جبرائیل ہے۔چنانچہ قرآن مجید میں عِندَ ذِی الْعَرْشِ مَكِينِ ، مُطَاع ثُمَّ آمِين (التكوير : ۲۱، ۲۲) آیا ہے۔رسول کریم نے فرمایا: أُوتِيتُ جَوَامِعَ الكَلِم۔میری تعلیم تمام دنیا کی پاک تعلیموں کی جامع ہے کیونکہ تمام نیکیوں کی تحریکوں کے آفیسر کا تعلق میرے قلب