صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 549 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 549

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۵۴۹ ۹۶ - کتاب الاعتصام بالكتاب والسنة أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُنِي أُتِيتُ بِمَفَاتِيحٍ خَزَائِنِ میری مدد کی گئی اور اسی اثنا میں کہ میں سویا ہوا الْأَرْضِ فَوُضِعَتْ فِي يَدِي قَالَ ہوں، میں نے اپنے تئیں دیکھا کہ زمین کے خزانوں أَبُو هُرَيْرَةَ فَقَدْ ذَهَبَ رَسُولُ اللهِ کی چابیاں مجھے دی گئی ہیں اور میرے ہاتھ میں انہیں صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنْتُمْ تَلْغَثُونَهَا رَکھ دیا گیا۔ حضرت ابو ہریرہ کہتے تھے: رسول اللہ أَوْ تَرْغَثُونَهَا أَوْ كَلِمَةً تُشْبِهُهَا۔ صلی اللہ علیہ وسلم تو چلے گئے اور اب تم انہیں کھا رہے ہو یا کہا: انہیں چوس رہے ہو یا اس سے ملتا أطرافه: ۲۹۷۷، ۶۹۹۸، ۷۰۱۳۔ جلتا کلمہ کہا۔ ٧٢٧٤ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللهِ ۷۲۷۴ : عبدالعزیز بن عبد اللہ نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سعید سے، أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ سعید نے اپنے باپ سے ، ان کے باپ نے حضرت وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ نَبِيٌّ إِلَّا ابوہریرہ سے، حضرت ابوہریرہ نے نبی صلی اللہ أُعْطِيَ مِنَ الْآيَاتِ مَا مِثْلُهُ أُومِنَ أَوْ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: نبیوں میں آمَنَ عَلَيْهِ الْبَشَرُ وَإِنَّمَا كَانَ الَّذِي کوئی بھی ایسا نبی نہیں جس کو ایسے نشان نہ دیئے أُوتِيتُهُ وَحْيَا أَوْحَاهُ اللَّهُ إِلَيَّ فَأَرْجُو أَنِّي گئے ہوں جنہیں مانا گیا یا( کہا ، جن پر لوگ ایمان لائے اور جو نشان مجھے دیا گیا ہے وہ، وہ وحی ہے جو أَكْثَرُهُمْ تَابِعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ۔ طرفه: ٤٩٨١ - اللہ نے مجھے کی اور میں امید رکھتا ہوں کہ قیامت کے روز میرے متبعین اُن کے متبعین سے زیادہ ہوں گے۔ تشريح : قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُعِثْتُ بِجَوَامِعِ الْكَلِمِ بی سلام کا فرمانا: مجھے جامع باتیں دے کر بھیجا گیا ہے۔ آپ کے کلام کی جامعیت کا نظارہ ہر موقع پر بڑا روشن نظر آتا ہے خواہ وہ آپ کے اقوال ہوں یا تعلیمات، پیغامات ہوں یا مکتوبات۔ آپ کا ہر کلام ہی جامعیت اور فصاحت کا عظیم شاہکار ہے۔ علامہ عینی بیان کرتے ہیں کہ جوامع الکلم سے مراد ایسے کلمات ہیں جن میں الفاظ تو کم ہوں لیکن وہ جامعہ لیکن وہ جامعیت کے لحاظ سے بہت سے معانی اپنے اندر سموئے ہوئے ہوں اور آ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فقرہ کا ماحصل یہ ہے کہ