صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 551 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 551

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۵۵۱ ٩٦ - كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة سے ہے۔جامع کے یہ معنے ہیں کہ دُنیا میں کوئی ایسی صداقت (جو قلبی اور روحانی ہو) نہ ہوگی جس کے لئے قرآن مجید سے کوئی آیت نہ ملے۔“ حقائق الفرقان، جلد اول صفحه (۲۰۱) بَاب ۲ : الِاقْتِدَاءُ بِسُنَنِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقوں کی پیروی کرنا وَقَوْلُ اللهِ تَعَالَى وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: ہمیں متقیوں کا پیشوا بنا۔إمَامًا (الفرقان: ٧٥) قَالَ أَئِمَّةً نَقْتَدِي (مجاہد نے) کہا: یعنی ایسے پیشوا کہ ہم ان کی پیروی بِمَنْ قَبْلَنَا وَيَقْتَدِي بِنَا مَنْ بَعْدَنَا کریں جو ہم سے پہلے تھے اور ہماری پیروی وہ کریں وَعَنِ ابْنِ عَوْنٍ ثَلَاثٌ أُحِبُّهُنَّ جو ہمارے بعد ہوں گے اور ابن عون نے کہا: تین لِنَفْسِي وَلِإِخْوَانِي هَذِهِ السُّنَّةُ أَنْ باتیں ہیں جو میں اپنے لئے اور اپنے بھائیوں کے يَّتَعَلَّمُوهَا وَيَسْأَلُوا عَنْهَا وَالْقُرْآنُ أَنْ لئے پسند کرتا ہوں۔یہ مسنون طریقہ ، چاہیئے کہ يَّتَفَهَّمُوهُ وَيَسْأَلُوا النَّاسَ عَنْهُ وَيَدَعُوال وہ اسے سیکھیں اور اس کے متعلق پوچھتے رہیں اور قرآن، چاہیے کہ وہ اسے پوری طرح سمجھیں اور النَّاسَ إِلَّا مِنْ خَيْرٍ۔لوگوں سے اس کے معافی دریافت کرتے رہیں اور یہ کہ لوگوں کو بھلے طریق سے دعوت دیتے رہیں۔٧٢٧٥: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبَّاسٍ حَدَّثَنَا ۷۲۷۵: عمرو بن عباس نے ہم سے بیان کیا کہ عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ وَاصِلِ عبد الرحمن نے ہمیں بتایا۔سفیان نے ہم سے بیان عَنْ أَبِي وَائِلِ قَالَ جَلَسْتُ إِلَى شَيْبَةَ کیا۔سفیان نے واصل سے ، واصل نے ابو وائل فِي هَذَا الْمَسْجِدِ قَالَ جَلَسَ إِلَيَّ عُمَرُ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: میں اس مسجد میں فِي مَجْلِسِكَ هَذَا فَقَالَ هَمَمْتُ أَنْ حضرت شیبہ کے پاس بیٹھا، وہ کہنے لگے : حضرت عمر لَّا أَدَعَ فِيهَا صَفْرَاءَ وَلَا بَيْضَاءَ إِلَّا میرے پاس اس جگہ بیٹھے تھے جہاں تم بیٹھے ہو اور 1 فتح الباری مطبوعہ بولاق میں اس جگہ لفظ " قال " ہے۔(فتح الباری جزء ۱۳ حاشیہ صفحہ ۳۰۵) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔کمپنی کے نسخہ کے مطابق یہ لفظ سید عوا" ہے۔(فتح الباری جزء ۱۳ صفحہ ۳۰۹) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔