صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 546 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 546

صحيح البخاری جلد ۱۶ ۵۴۶ ۹۶ - كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة افعال، تقریر اور ایسے افعال ہیں جن کو کرنے کا آپ نے ارادہ فرمایا جبکہ بعض فقہاء کی اصطلاح میں یہ لفظ مستحب کے مترادف ہے۔(فتح الباری، جزء ۱۳ صفحہ ۳۰۲) علامہ ابن حزم بیان کرتے ہیں کہ ثقات کی سند سے جو صحیح روایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچے، جس نے اس روایت کی پیروی کی اُس نے یقینا سنت کی پیروی کی۔التوضيح لشرح الجامع الصحيح لابن الملقن ، جزء ۳۳ صفحه ۱۳) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: "مسلمانوں کے ہاتھ میں اسلامی ہدایتوں پر قائم ہونے کیلئے تین چیزیں ہیں۔(۱) قرآن شریف جو کتاب اللہ ہے، جس سے بڑھ کر ہمارے ہاتھ میں کوئی کلام قطعی اور یقینی نہیں۔وہ خدا کا کلام ہے، وہ شک اور ظن کی آلائشوں سے پاک ہے۔(۲) دوسری سنت۔اور اس جگہ ہم اہلحدیث کی اصطلاحات سے الگ ہو کر بات کرتے ہیں۔یعنی ہم حدیث اور سنت کو ایک چیز قرار نہیں دیتے جیسا کہ رسمی محدثین کا طریق ہے بلکہ حدیث الگ چیز ہے اور سنت الگ چیز۔سنت سے مراد ہماری صرف آنحضرت کی فعلی روش ہے جو اپنے اندر تو اتر رکھتی ہے اور ابتدا سے قرآن شریف کے ساتھ ہی ظاہر ہوئی اور ہمیشہ ساتھ ہی رہے گی یا بہ تبدیل الفاظ یوں کہہ سکتے ہیں کہ قرآن شریف خدا تعالیٰ کا قول ہے اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل اور قدیم سے عادۃ اللہ یہی ہے کہ جب انبیاء علیہم السلام خدا کا قول لوگوں کی ہدایت کیلئے لاتے ہیں تو اپنے فعل سے یعنی عملی طور پر اس قول کی تفسیر کر دیتے ہیں تا اس قول کا سمجھنالوگوں پر مشتبہ نہ رہے اور اس قول پر آپ بھی عمل کرتے ہیں اور دوسروں سے بھی عمل کراتے ہیں۔(۳) تیسرا ذریعہ ہدایت کا حدیث ہے اور حدیث سے مراد ہماری وہ آثار ہیں کہ جو قصوں کے رنگ میں آنحضرت سے قریب ڈیڑھ سو برس بعد مختلف راویوں کے ذریعوں سے جمع کئے گئے ہیں۔پس سنت اور حدیث میں مابہ الامتیاز یہ ہے کہ سنت ایک عملی طریق ہے جو اپنے ساتھ تو اتر رکھتا ہے جس کو آنحضرت نے اپنے ہاتھ سے جاری کیا۔اور وہ یقینی مراتب میں قرآن شریف سے دوسرے درجہ پر ہے اور جس طرح آنحضرت قرآن شریف کی اشاعت کے لئے مامور تھے ایسا ہی سنت کی اقامت کے لئے بھی مامور تھے۔