صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 547 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 547

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۵۴۷ ۹۲ - کتاب الاعتصام بالكتاب والسنة پس جیسا کہ قرآن شریف یقینی ہے ایسا ہی سنت معمولہ متواترہ بھی یقینی ہے۔دونوں خدمات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ سے بجالائے اور دونوں کو اپنا فرض سمجھا۔مثلاً جب نماز کے لئے حکم ہوا تو آنحضرت نے خدا تعالیٰ کے اس قول کو اپنے فعل سے کھول کر دکھلا دیا اور عملی رنگ میں ظاہر کر دیا کہ فجر کی نماز کی یہ رکعات ہیں اور مغرب کی یہ اور باقی نمازوں کے لئے یہ یہ رکعات ہیں۔ایسا ہی حج کر کے دکھلایا اور پھر اپنے ہاتھ سے ہزار ہا صحابہ کو اس فعل کا پابند کر کے سلسلہ تعامل بڑے زور سے قائم کر دیا۔پس عملی نمونہ جو اب تک امت میں تعامل کے رنگ میں مشہود و محسوس ہے اسی کا نام سنت ہے۔لیکن حدیث کو آنحضرت صلعم نے اپنے روبرو نہیں لکھوایا اور نہ اس کے جمع کرنے کیلئے کوئی اہتمام کیا۔کچھ حدیثیں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے جمع کی تھیں لیکن پھر تقویٰ کے خیال سے انہوں نے وہ سب حدیثیں جلا دیں کہ یہ میر اسماع بلا واسطہ نہیں ہے، خدا جانے اصل حقیقت کیا ہے۔پھر جب وہ دور صحابہ رضی اللہ عنہم کا گذر گیا تو بعض تبع تابعین کی طبیعت کو خدا نے اس طرف پھیر دیا کہ حدیثوں کو بھی جمع کر لینا چاہیئے۔تب حدیثیں جمع ہوئیں۔اس میں شک نہیں ہو سکتا کہ اکثر حدیثوں کے جمع کرنے والے بڑے متقی اور پرہیز گار تھے۔انہوں نے جہاں تک اُن کی طاقت میں تھا حدیثوں کی تنقید کی اور ایسی حدیثوں سے بچنا چاہا جو اُن کی رائے میں موضوعات میں سے تھیں اور ہر ایک مشتبہ الحال راوی کی حدیث نہیں لی۔بہت محنت کی مگر تا ہم چونکہ وہ ساری کارروائی بعد از وقت تھی اِس لئے وہ سب ظن کے مرتبہ پر رہی۔بایں ہمہ یہ سخت نا انصافی ہوگی کہ یہ کہا جائے کہ وہ سب حدیثیں لغو اور حکمی اور بے فائدہ اور جھوٹی ہیں بلکہ اُن حدیثوں کے لکھنے میں اس قدر احتیاط سے کام لیا گیا ہے اور اس قدر تحقیق اور تنقید کی گئی ہے جو اس کی نظیر دوسرے مذاہب میں نہیں پائی جاتی۔“ نیز آپ نے فرمایا: ریویو بر مباحثہ بٹالوی و چکڑالوی، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۲۰۹ تا ۲۱۱ ) آخری نصیحت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ تھی کہ تم نے تمسک بکتاب اللہ کرنا۔جیسا کہ بخاری کے صفحہ ۷۵۱ میں یہ حدیث درج ہے کہ أَوْصَى بِكِتَابِ اللهِ۔