صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 545 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 545

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۵۴۵ ۹۶ - كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة ۷۲۷۱: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَبَّاح ۷۲۷۱: عبد اللہ بن صباح نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ قَالَ سَمِعْتُ عَوْفًا أَنَّ معتمر نے ہمیں بتایا۔انہوں نے کہا: میں نے عوف أَبَا الْمِنْهَالِ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا بَرْزَةَ سے سنا کہ ابو المنہال نے اُن سے بیان کیا کہ انہوں قَالَ إِنَّ اللَّهَ يُغْنِيكُمْ - أَوْ نَعَشَكُمْ نے حضرت ابوبرزہ سے سنا۔انہوں نے کہا کہ اللہ - بِالْإِسْلَامِ وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ اسلام کے ذریعہ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل تمہیں مال دار کر رہا ہے یا کہا: اس نے تمہیں بلند وَسَلَّمَ۔کر دیا ہے۔قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ وَقَعَ هُنَا يُغْنِيكُمْ ابو عبد اللہ (امام بخاریؒ) نے کہا: یہاں يُغْنِيكُمْ وَإِنَّمَا هُوَ نَعَشَكُمْ يُنْظَرُ فِي أَصْلِ کا لفظ ہے۔( یعنی وہ تمہیں مال دار کر رہا ہے۔) حالانکہ یہ تعشكُم ہے۔(یعنی اُس نے تمہیں بلند كِتَابِ الاِعْتِصَامِ۔طرفه: ۷۱۱۲- کر دیا ہے۔جیسا کہ کتاب الاعتصام کے اصل نسخہ میں دیکھا جاسکتا ہے۔۷۲۷۲: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنِي ۷۲۷۲ اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ أَنَّ مجھے بتایا۔انہوں نے عبد اللہ بن دینار سے روایت عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَتَبَ إِلَى عَبْدِ الْمَلِكِ کی کہ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے عبد الملک بن بْنِ مَرْوَانَ يُبَايِعُهُ وَأُقِرُّ لَكَ بِالسَّمْع مروان کو اُن سے بیعت کرتے ہوئے یہ لکھا: اور وَالطَّاعَةِ عَلَى سُنَّةِ اللهِ وَسُنَّةِ رَسُولِهِ میں آپ سے اقرار کرتا ہوں کہ اللہ کی شریعت اور فِيمَا اسْتَطَعْتُ۔اس کے رسول کی سنت کے مطابق جہاں تک مجھ أطرافه: ۷۲۰۳، ۷۲۰۵ سے ہو سکا میں آپ کا حکم سنوں گا اور مانوں گا۔تشريح الاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ: علامہ کرمانی بیان کرتے ہیں کہ یہ عنان اللہ تعالی کے قول وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِیعًا ( آل عمران: ۱۰۴) سے ماخوذ ہے۔اس لیے کہ رسی سے استعارة کتاب اللہ اور سنت مراد ہیں اور یہ دونوں ثواب پانے اور عذاب سے نجات حاصل کرنے کا ذریعہ ہیں۔علامہ ابن حجر" بیان کرتے ہیں کہ کتاب سے مراد قرآن کریم کی تلاوت کے ساتھ اُس کا مطیع اور فرماں بردار ہو جاتا ہے اور سنت کے لغوی معنی ہیں راستہ ، اور اصطلاحی طور پر اہل اصول اور محدثین کے نزدیک اس سے مراد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال،