صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 32 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 32

صحيح البخاری جلد ۱۶ ۳۲ ۸۸- کتاب استتابة المرتدين۔۔۔باب ٤ : إِذَا عَرَّضَ الذِمِّيُّ أَوْ غَيْرُهُ بِسَبِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يُصَرِّحْ نَحْوَ قَوْلِهِ السَّامُ عَلَيْكُمْ اگر ذمی وغیرہ اشارے کنایہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دے اور تصریح نہ کرے جیسے اُس کا یہ کہنا: السّام علیکم ( تم پر ہلاکت ہو ) ٦٩٢٦: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِل ۶۹۲۶: محمد بن مقاتل ابوالحسن نے ہم سے بیان أَبُو الْحَسَنِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا کیا کہ عبد اللہ بن مبارک) نے ہمیں بتایا۔شعبہ شُعْبَةُ عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَنَسِ بْنِ نے ہم سے بیان کیا۔شعبہ نے ہشام بن زید بن مَالِكٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ انس بن مالک سے روایت کی۔ہشام نے کہا: میں يَقُولُ مَرَّ يَهُودِيٌّ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّی نے حضرت انس بن مالک سے سنا۔وہ کہتے تھے: اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ السَّامُ عَلَيْكَ ایک یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا اور اُس نے کہا: السّامُ عَلَيْكَ۔(تم پر ہلاکت ہو ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب ديا: وَعَلَيْكَ۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ یہ کیا کہتا ہے ؟ اس نے کہا ہے: السّامُ عَلَيْكَ۔صحابہ نے کہا: یا رسول اللہ ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْكَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَدْرُونَ مَا يَقُولُ؟ قَالَ السَّامُ عَلَيْكَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا تَقْتُلُهُ؟ قَالَ لَا إِذَا کیا ہم اس کو مار نہ ڈالیں ؟ آپ نے فرمایا: نہیں۔سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَهْلُ الْكِتَابِ فَقُولُوا جب اہل کتاب تمہیں سلام کریں تو تم یہی کہو: وَعَلَيْكُمْ۔طرفه: ٦٢٥٨ - وَعَلَيْكُمْ۔٦٩٢٧: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ عَنِ ابْنِ ۶۹۲۷: ابو نعیم نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ ابن عیینہ سے، ابن عیینہ نے زہری سے، زہری عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ اسْتَأْذَنَ نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ رَهْطُ مِّنَ الْيَهُودِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى الله عنہا سے روایت کی۔آپ فرماتی تھیں: یہودیوں