صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 31 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 31

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۳۱ ۸۸ کتاب استتابة المرتدين۔۔۔ عرب قبائل کو نگل جائیں۔ چنانچہ وہ سجاح سے شادی کر کے مسلمانوں کے مقابلہ کو نکلا۔ اس کے لشکر کی تعداد چالیس ہزار تھی۔ حضرت خالد بن ولید نے اسکا مقابلہ کیا اور اسے شکست دی۔ “ (تاریخ الطبرى لمحمد بن جرير الطبري، ذكر بقية خبر مسيلمة الكذاب و قومه من اهل اليمامة، حالات اله) ۔ اسی طرح تاریخ الخمیس میں بھی مذکور ہے: مسیلمہ کذاب کے ساتھ بنو حنیفہ کی اکثریت ہو گئی۔ وہ تمامہ پر قابض ہو گیا اور اس نے رسول اللہ کے گورنر ثمامہ کو نکال باہر کیا۔ انہوں نے رسول اللہ کی خدمت میں پیغام بھجوایا۔ جب رسول اللہ فوت ہو گئے تو انہوں نے حضرت ابو بکر کو اطلاع کی جس پر آپ نے حضرت خالد بن ولید کو ایک بڑے لشکر کے ساتھ مسیلمہ کے مقابلہ کے لئے روانہ فرمایا۔ (تاریخ الخميس لحسين بن محمد الديار بكري، قصة مسيلمة الكذاب) پس صحابہؓ نے مسیلمہ کذاب اور اس کے قبیلہ بنو حنیفہ کے خلاف محض ارتداد کی بناء پر جنگ نہیں کی بلکہ بغاوت کے جرم کی وجہ سے کی تھی کیونکہ مسیلمہ باغی تھا اور مسلمانوں کے خلاف اس نے لشکر کشی کی تھی۔ ۔ پھر علامہ عینی مشارح صحیح البخاری لکھتے ہیں: إِنَّمَا قَاتَلَ أَبُو بَكْرِ رَضِيَ الله عَنهُ مَا نَعِي الزَّكَاةِ لِأَنَّهُمْ امْتَنَعُوا بِالسَّيْفِ وَنَصَبُوا الْحَرْبَ لِلْأُمَّةِ " (عمدة القارى لعلامه محمود بن احمد العيني، شرح البخاری، کتاب استتابة المرتدين و المعاندین و قتالهم ، باب قتل من ابي قبول الفرائض وما نسبوا الى الردة یعنی حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے زکوۃ دینے سے انکار کرنے والوں سے صرف اس لئے قتال کیا کہ انہوں نے تلوار کے ذریعہ سے زکوۃ روکی اور مسلمانوں کے خلاف جنگ بر پاکی۔“ ( اسلام میں ارتداد کی سز ا صفحہ ۷۰ تا ۷۹، مصنفہ حضرت خلیفة المسیح الرابع)