صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 535
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۵۳۵ ۹۵- کتاب اخبار الآحاد سلسلہ قائم کیا اور امور تعاملی کا اسناد راست گو اور متدین راویوں کے ذریعہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا دیا تو پھر بھی اس پر جرح کرنا در حقیقت ان لوگوں کا کام ہے جن کو بصیرت ایمانی اور عقل انسانی کا کچھ بھی حصہ نہیں ملا۔“ شہادت القرآن، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۹۸ تا ۳۰۴) بَاب ۲ : بَعْثُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الزُّبَيْرَ طَلِيعَةً وَحْدَهُ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت زبیر کو اکیلے ہی بطور ہر اول بھیجنا ٧٢٦١: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ ۷۲۶۱: علی بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُنْكَدِرِ قَالَ (بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا۔ ابن منکدر نے ہم سے سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ قَالَ نَدَبَ بیان کیا، کہا: میں نے حضرت جابر بن عبد اللہ سے و الله سنا۔ کہتے تھے : خندق کی جنگ میں نبی صلی علیم نے النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ يَوْمَ کسی کام کو سر انجام دینے کے لئے لوگوں کو پکارا الْخَنْدَقِ فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ ثُمَّ نَدَبَهُمْ تو حضرت زبیر نے اپنے آپ کو پیش کیا، پھر آپ فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ ثُمَّ نَدَبَهُمْ فَانْتَدَبَ نے ان کو پکارا اور حضرت زبیر نے اپنے آپ کو پیش الزُّبَيْرُ فَقَالَ لِكُلِّ نَبِي حَوَارِي وَحَوَارِي کیا، پھر آپ نے ان کو پکارا اور حضرت زبیر نے اپنے الزُّبَيْرُ۔ قَالَ سُفْيَانُ حَفِظْتُهُ مِنِ ابْنِ آپ کو پیش کیا۔ آپؐ نے فرمایا: ہر ایک نبی کا ایک الْمُنْكَدِرِ وَقَالَ لَهُ أَيُّوبُ يَا أَبَا بَكْرٍ حواری ہوتا ہے اور میرا حواری زبیر ہے۔ سفیان حَدِتْهُمْ عَنْ جَابِرٍ فَإِنَّ الْقَوْمَ يُعْجِبُهُمْ نے کہا: میں نے اس کو ابن منکدر سے یاد رکھا اور أَنْ تُحَدِّثَهُمْ عَنْ جَابِرٍ فَقَالَ فِي ذَلِكَ ایوب نے ابن منکدر ہے کہا: ابوبکر تم ان لوگوں سے حضرت جابر کی حدیثیں بیان کیا کرو کیونکہ ان الْمَجْلِسِ سَمِعْتُ جَابِرًا فَتَتَابَعَ بَيْنَ لوگوں کو یہ پسند ہے کہ تم حضرت جابر کی جابر کی حدیثیں أَحَادِيثَ سَمِعْتُ جَابِرًا۔ قُلْتُ لِسُفْيَانَ ان کو بتاؤ تو ابن منکدر نے اسی مجلس میں یہ کہا: میں فَإِنَّ النَّوْرِيَّ يَقُولُ يَوْمَ قُرَيْظَةَ فَقَالَ نے حضرت جابر سے سنا اور چند حدیثوں کے بیان كَذَا حَفِظْتُهُ مِنْهُ كَمَا أَنَّكَ جَالِسٌ يَوْمَ کرتے وقت پے در پے یہ کہا کہ میں نے حضرت