صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 534 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 534

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۵۳۴ ۹۵- کتاب اخبار الآحاد اماموں کی تالیفات کے بعد تو پھر یہ خیال کس قدر بے تمیزی اور نا سمجھی ہے کہ سراسر تحکم کی راہ سے یہ اعتقاد کر لیا جائے کہ صرف دوسری صدی کی روایتوں کے سہارے سے اسلام کا وہ حصہ پھولا پھلا ہے جس کو حال کے زمانہ میں احادیث کہتے ہیں اور افسوس تو یہ کہ مخالف تو مخالف ہمارے مذہب کے بے خبر لوگوں کو بھی یہی دھوکا لگ گیا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ گویا ایک مدت کے بعد صرف حدیثی روایات کے مطابق بہت سے مسائل اسلام کے ایسے لوگوں کو تسلیم کرائے گئے ہیں کہ جو اُن حدیثوں کے قلمبند ہونے سے پہلے اُن مسائل سے بکلی غافل تھے بلکہ حق بات جو ایک بدیہی امر کی طرح ہے یہی ہے کہ آئمہ حدیث کا اگر لوگوں پر کچھ احسان ہے تو صرف اس قدر کہ وہ امور جو ابتدا سے تعامل کے سلسلہ میں ایک دنیا اُن کو مانتی تھی اُن کی اسناد کے بارے میں اُن لوگوں نے تحقیق اور تفتیش کی اور یہ دکھلا دیا کہ اس زمانہ کی موجودہ حالت میں جو کچھ اہل اسلام تسلیم کر رہے ہیں یا عمل میں لارہے ہیں یہ ایسے امور نہیں جو بطور بدعات اسلام میں اب مخلوط ہو گئے ہیں بلکہ یہ وہی گفتار و کردار ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو تعلیم فرمائی تھی۔افسوس کہ اس صحیح اور واقعی امر کے سمجھنے میں غلط فہمی کر کے کو نہ اندیش لوگوں نے کس قدر بڑی غلطی کھائی جس کی وجہ سے آج تک وہ حدیثوں کو سخت نفرت کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔اگر چہ یہ تو بیچ ہے کہ حدیثوں کا وہ حصہ جو تعامل قولی و فعلی کے سلسلہ سے باہر ہے اور قرآن سے تصدیق یافتہ نہیں یقین کامل کے مرتبہ پر مسلم نہیں ہو سکتا لیکن وہ دوسرا حصہ جو تعامل کے سلسلہ میں آگیا اور کروڑہا مخلوقات ابتدا سے اُس پر اپنے عملی طریق سے محافظ اور قائم چلی آئی ہے اس کو ظنی اور شکی کیونکر کہا جائے۔ایک دنیا کا مسلسل تعامل جو بیٹوں سے باپوں تک اور باپوں سے دادوں تک اور دادوں سے پڑھا دوں تک بدیہی طور پر مشہور ہو گیا اور اپنے اصل مبدء تک اس کے آثار اور انوار نظر آگئے، اس میں تو ایک ذرہ شک کی گنجائش نہیں رہ سکتی اور بغیر اس کے انسان کو کچھ بن نہیں پڑتا کہ ایسے مسلسل عمل درآمد کو اول درجہ کے یقینات میں سے یقین کرے۔پھر جبکہ ائمہ حدیث نے اس سلسلہ تعامل کے ساتھ ایک اور