صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 533 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 533

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۵۳۳ ۹۵- کتاب اخبار الآحاد چند حدیثوں کی بنا پر ہی قائم ہیں حالانکہ یہ اُن کی فاش غلطی ہے بلکہ جس تعامل کے سلسلہ کو ہمارے نبی صلی الم نے اپنے ہاتھ سے قائم کیا تھا وہ ایسا کروڑہا انسانوں میں پھیل گیا تھا کہ اگر محدثین کا دنیا میں نام ونشان بھی نہ ہو تا تب بھی اس کو کچھ نقصان نہ تھا۔یہ بات ہر ایک کو ماننی پڑتی ہے کہ اس مقدس معلم اور مقدس رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم کی باتوں کو ایسا محدود نہیں رکھا تھا کہ صرف دو چار آدمیوں کو سکھلائی جائیں اور باقی سب اس سے بے خبر ہوں۔اگر ایسا ہو تا تو پھر اسلام ایسا بگڑتا کہ کسی محدث وغیرہ کے ہاتھ سے ہرگز درست نہیں ہو سکتا تھا۔اگر چہ آئمہ حدیث نے دینی تعلیم کی نسبت ہزار ہا حدیثیں لکھیں مگر سوال تو یہ ہے کہ وہ کونسی حدیث ہے کہ جو اُن کے لکھنے سے پہلے اُس پر عمل نہ تھا اور دنیا اس مضمون سے غافل تھی۔اگر کوئی ایسی تعلیم یا ایسا واقعہ یا ایسا عقیدہ ہے جو اس کی بنیادی اینٹ صرف ائمہ حدیث نے ہی کسی روایت کی بناء پر رکھی ہے اور تعامل کے سلسلہ میں جس کے کروڑہا افراد انسانی قائل ہوں اس کا کوئی اثر و نشان دکھائی نہیں دیتا اور نہ قرآن کریم میں اس کا کچھ ذکر پایا جاتا ہے تو بلاشبہ ایسی خبر واحد جس کا پتہ بھی سو ڈیڑھ سو برس کے بعد لگا یقین کے درجہ سے بہت ہی نیچے گری ہوئی ہوگی اور جو کچھ اس کی ناقابل تسلی ہونے کی نسبت کہو وہ بجا ہے لیکن ایسی حدیثیں در حقیقت دین اور سوانح اسلام سے کچھ بڑا تعلق نہیں رکھتیں بلکہ اگر سوچ کر دیکھو تو ائمہ حدیث نے ایسی حدیثوں کا بہت ہی کم ذکر کیا ہے جن کا تعامل کے سلسلہ میں نام و نشان تک نہیں پایا جاتا۔پس جیسا کہ بعض جاہل خیال کرتے ہیں یہ بات ہر گز صحیح نہیں ہے کہ دنیا نے دین کے صدہا ضروری مسائل یہاں تک کہ صوم و صلوۃ بھی صرف امام بخاری اور مسلم وغیرہ کی احادیث سے سیکھے ہیں۔کیا سوڈیڑھ سو برس تک لوگ بے دین ہی چلے آتے تھے، کیا وہ لوگ نماز نہیں پڑھتے تھے، زکوۃ نہیں دیتے تھے ، حج نہیں کرتے تھے اور ان تمام اسلامی عقائد کے امور سے جو حدیثوں میں لکھے ہیں بے خبر تھے ؟ حاشا و کلا ہرگز نہیں اور جو کوئی ایسا خیال کرے اس کا حمق ایک تعجب انگیز نادانی ہے۔پھر جبکہ بخاری اور مسلم و غیرہ ائمہ حدیث کے زمانہ سے پہلے بھی اسلام ایسا ہی سرسبز تھا جیسا کہ ان