صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 532 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 532

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۵۳۲ ۹۵ - کتاب اخبار الآحاد ڈالنے والے وہی محدث تھے اور پہلے اس سے دنیا میں نماز نہیں ہوتی تھی اور دنیا نماز سے بالکل بے خبر تھی اور کئی صدیوں کے بعد صرف ایک دو حدیثوں پر اعتبار کرنے سے نماز شروع کی گئی۔پس میں زور سے کہتا ہوں کہ یہ ایک بڑا دھوکا ہو گا اگر یہ خیال کر لیا جائے گا کہ صرف مدار ثبوت ان رکعات اور کیفیت نماز خوانی کا اُن چند حدیثوں پر تھا جو بنظر ظاہر احاد سے زیادہ معلوم نہیں ہوتیں۔اگر یہی سچ ہے تو سب سے پہلے فرائض اسلام کیلئے ایک سخت اور لا علاج ما تم در پیش ہے جس کی فکر ایک مسلمان کہلانیوالے ذی غیرت کو سب سے مقدم ہے مگر یاد رہے کہ ایسا خیال فقط ان لوگوں کا ہے جنہوں نے کبھی بیدار ہو کر سوانح اور واقعات اور رسوم اور عبادات اسلام کی طرف نظر نہیں کی کہ کیونکر اور کس طریق سے یقینی امور کا ان کو مرتبہ حاصل ہوا۔سو واضح ہو کہ اس یقین کے بہم پہنچانے کیلئے تعامل قومی کا سلسلہ نہات تسلی بخش نمونہ ہے۔مثلاً وہ احادیث جن سے ثابت ہوتا ہے کہ نماز فجر کی اس قدر رکعت اور نماز مغرب کی اس قدر رکعات ہیں، اگر چہ فرض کرو کہ ایسی حدیثیں دو یا تین ہیں اور بہر حال احاد سے زیادہ نہیں مگر کیا اس تحقیق اور تفتیش سے پہلے لوگ نماز نہیں پڑھتے تھے اور حدیثوں کی تحقیق اور راویوں کا پتہ ملنے کے بعد پھر نمازیں شروع کرائی گئیں تھیں بلکہ کروڑہا انسان اسی طرح نماز پڑھتے تھے اور اگر فرض کے طور پر حدیثوں کے اسنادی سلسلہ کا وجود بھی نہ ہوتا۔تاہم اس سلسلہ تعامل سے قطعی اور یقینی طور پر ثابت تھا کہ نماز کے بارے میں اسلام کی مسلسل تعلیم وقتا بعد وقت اور قرنا بعد قرن یہی چلی آئی ہے۔ہاں احادیث کی اسناد مر فوعہ متصلہ نے اس سلسلہ کو نوز علی نور کر دیا۔پس اگر اس قاعدہ سے احادیث کو دیکھا جائے تو اُن کے اکثر حصہ کو جس کا معین اور مددگار سلسلہ تعامل ہے احاد کے نام سے یاد کرنا بڑی غلطی ہو گی اور در حقیقت یہی ایک بھاری غلطی ہے جس نے اس زمانہ کے نیچریوں کو صداقت اسلام سے بہت ہی ڈور ڈالدیا۔وہ خیال کرتے ہیں کہ گویا اسلام کی وہ تمام سنن اور رسوم اور عبادات اور سوانح اور تواریخ جن پر حدیثوں کا حوالہ دیا جاتا ہے وہ صرف