صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 531 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 531

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۵۳۱ -۹۵- کتاب اخبار الآحاد کیا ایسی بحث کرنے والا حق پر ہو گا۔اگر احادیث کی نسبت ایسی ہی رائیں قبول کی جائیں تو سب سے پہلے نماز ہی ہاتھ سے جاتی ہے کیونکہ قرآن نے تو نماز پڑھنے کا کوئی نقشہ کھینچ کر نہیں دکھلایا۔صرف یہ نماز میں احادیث کی صحت کے بھروسہ پر ڑھی جاتی ہیں۔اب اگر مخالف یہی اعتراض کرے کہ قرآن نے نماز کا طریق نہیں سکھلایا اور جس طریق کو مسلمانوں نے اختیار کر رکھا ہے وہ مردود ہے کیونکہ احادیث قابل اعتبار نہیں تو ہم ایسے اصول پر آپ ہی پابند ہونے سے کہ بے شک احادیث کچھ بھی چیز نہیں اس اعتراض کا کیا جواب دے سکتے ہیں بجز اسکے کہ اعتراض کو قبول کر لیں بلکہ اس صورت میں اسلام کی نماز جنازہ بھی بالکل بیہودہ ہو گی کیونکہ قرآن میں اس بات کا کہیں ذکر نہیں کہ کوئی ایسی نماز بھی ہے کہ جس میں سجدہ اور رکوع نہیں۔اب سوچ کر دیکھ لو کہ احادیث کے چھوڑنے سے اسلام کا کیا باقی رہ جاتا ہے۔اور خود یہ بات قلت تدبر کا نتیجہ ہے کہ ایسا خیال کر لیا جائے کہ احادیث کا ما حصل صرف اسقدر ہے کہ محض ایک یا دو آدمی کے بیان کو معتبر سمجھ کے اُس کی روایت کو قول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیال کر لیا جائے بلکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ احادیث کا سلسلہ تعامل کے سلسلہ کی ایک فرع اور اطراد بعد الوقوع کے طور پر ہے۔مثلاً حدثین نے دیکھا کہ کروڑہا آدمی مغرب کے فرض کی تین رکعت پڑھتے ہیں اور فجر کی دو اور مع ذالک ہر ایک رکعت میں سورہ فاتحہ ضرور پڑھتے ہیں اور آمین بھی کہتے ہیں گو بالجہر یا بالسر اور قعدہ اخیرہ میں التحیات پڑھتے ہیں اور ساتھ اسکے درود اور کئی دعائیں ملاتے ہیں اور دونوں طرف سلام دے کر نماز سے باہر ہوتے ہیں۔سو اس طر ز عبادت کو دیکھ کر محدثین کو یہ ذوق اور شوق پیدا ہوا کہ تحقیق کے طور پر اس وضع نماز کا سلسلہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا ویں اور احادیث صحیحہ مرفوعہ متصلہ سے اس کو ثابت کریں۔اب اگر چہ یہ بات سچ ہے کہ انہوں نے ایسے سلسلہ کی بہم رسانی کے لئے یہ کوشش نہیں کی کہ ایک ایک حدیث کے مضمون کے لئے ہزار ہزار یا دو دو ہزار طرق اسناد بہم پہنچا دیں مگر کیا یہ بھی سچ ہے کہ اس نماز کی بنیاد