صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 530 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 530

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۵۳۰ ۹۵ - کتاب اخبار الآحاد ہوئے اور آنجناب کے زمانہ زندگی تک کن کن ممالک تک حکومت اسلام پھیل چکی تھی اور شاہان وقت کی طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوت اسلام کے خط لکھے تھے یا نہیں اور اگر لکھے تھے تو ان کا کیا نتیجہ ہوا تھا اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت ابو بکر صدیق کے وقت کیا کیا فتوحات اسلام ہوئیں اور کیا کیا مشکلات پیش آئیں اور حضرت فاروق کے زمانہ میں کن کن ممالک تک فتوحات اسلام ہوئیں۔یہ تمام امور صرف احادیث اور اقوال صحابہ کے ذریعہ سے معلوم ہوتے ہیں۔پھر اگر احادیث کچھ بھی چیز نہیں تو پھر اُس زمانہ کے حالات دریافت کرنا نہ صرف ایک امر مشکل بلکہ محالات میں سے ہو گا اور اس صورت میں واقعات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی نسبت مخالفین کو ہر یک افترا کی گنجائش ہوگی اور ہم دشمنوں کو بے جاحملہ کرنے کا بہت سا موقعہ دیں گے اور ہمیں ماننا پڑے گا کہ جو کچھ ان احادیث کے ذریعہ سے واقعات اور سواخ دریافت ہوتے ہیں وہ سب بیج اور کالعدم ہیں یہاں تک کہ صحابہ کے نام بھی یقینی طور پر ثابت نہیں۔غرض ایسا خیال کرنا کہ احادیث کے ذریعہ سے کوئی یقینی اور قطعی صداقت ہمیں مل ہی نہیں سکتی گویا اسلام کا بہت سا حصہ اپنے ہاتھ سے نابود کرنا ہے بلکہ اصل اور صحیح امر یہ ہے کہ جو کچھ احادیث کے ذریعہ سے بیان ہوا ہے جب تک صحیح اور صاف لفظوں میں قرآن اُس کا معارض نہ ہو تب تک اس کو قبول کرنالازم ہے کیونکہ یہ بات مسلم ہے کہ طبعی امر انسان کیلئے راست گوئی ہے اور انسان جھوٹ کو محض کسی مجبوری کی وجہ سے اختیار کرتا ہے کیونکہ وہ اُس کے لئے ایک غیر طبعی ہے۔پھر ایسی احادیث جو تعامل اعتقادی یا عملی میں آکر اسلام کے مختلف گروہوں کا ایک شعار ٹھہر گئی تھیں انکی قطعیت اور تواتر کی نسبت کلام کرنا تو در حقیقت جنون اور دیوانگی کا ایک شعبہ ہے۔مثلاً آج اگر کوئی شخص یہ بحث کرے کہ یہ پنچ نمازیں جو مسلمان پنج وقت ادا کرتے ہیں ان کی رکعات کی تعداد ایک شکی امر ہے کیونکہ مثلاً قرآن کریم کی کسی آیت میں یہ مذکور نہیں کہ تم صبح کی دورکعت پڑھا کرو اور پھر جمعہ کی دو اور عیدین کی بھی دو دو۔رہی احادیث تو وہ اکثر احاد ہیں جو مفید یقین نہیں، تو