صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 529
صحيح البخاری جلد ۱۹ ۵۲۹ ۹۵- کتاب اخبار الآحاد اور معاملات اور عقود وغیرہ کے متعلق ہیں اور ایسی مشہور ہیں کہ ان کا لکھنا صرف وقت ضائع کرنا اور بات کو طول دینا ہے۔علاوہ اس کے اسلامی تاریخ کامبدء اور منبع یہی احادیث ہی ہیں۔اگر احادیث کے بیان پر بھروسہ نہ کیا جائے تو پھر ہمیں اس بات کو بھی یقینی طور پر نہیں مانا چاہیئے کہ در حقیقت حضرت ابو بکر اور حضرت عمر اور حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ عنہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب تھے جن کو بعد وفات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس ترتیب سے خلافت ملی اور اسی ترتیب سے ان کی موت بھی ہوئی کیونکہ اگر احادیث کے بیان پر اعتبار نہ کیا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ ان بزرگوں کے وجود کو یقینی کہہ سکیں اور اس صورت میں ممکن ہو گا کہ تمام نام فرضی ہی ہوں اور دراصل نہ کوئی ابو بکر گذرا ہو نہ عمر نہ عثمان نہ علی کیونکہ بقول۔۔۔معترض یہ سب احادیث احاد ہیں اور قرآن میں ان ناموں کا کہیں ذکر نہیں پھر بموجب اس اصول کے کیونکر تسلیم کی جائیں۔ایسا ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے والد کا نام عبد اللہ اور والدہ کا نام آمنہ اور دادا کا نام عبد المطلب ہونا اور پھر آنحضرت علی علم کی بیویوں میں سے ایک کا خدیجہ اور ایک کا نام عائشہ اور ایک کا نام حفصہ رضی اللہ عنہن ہونا اور دایہ کا نام حلیمہ ہونا اور غار حرا میں جا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عبادت کرنا اور بعض صحابہ کا حبشہ کی طرف ہجرت کرنا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بعد بعثت دس سال تک مکہ میں رہنا اور پھر وہ تمام لڑائیاں ہونا جن کا قرآن کریم میں نام و نشان نہیں اور صرف احادیث سے یہ تمام امور ثابت ہوتے ہیں تو کیا اِن تمام واقعات سے اِس بناء پر انکار کر دیا جاوے کہ احادیث کچھ چیز نہیں۔اگر یہ سچ ہے تو پھر مسلمانوں کے لئے ممکن نہ ہو گا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک سوانح میں سے کچھ بھی بیان کر سکیں۔دیکھنا چاہیئے کہ ہمارے مولیٰ و آقا کی سوانح کا وہ سلسله که کیونکر قبل از بعثت مکہ میں زندگی بسر کی اور پھر کس سال دعوت نبوت کی اور کس ترتیب سے لوگ داخل اسلام ہوئے اور کفار نے مکہ کے دس سال میں کس کس قسم کی تکلیفیں پہنچائیں اور پھر کیونکر اور کس وجہ سے لڑائیاں شروع ہوئیں اور کس قدر لڑائیوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بہ نفس نفیس حاضر