صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 528
صحیح البخاری جلد ۱۶ فَرَجَمَهَا۔۵۲۸ ۹۵ - کتاب اخبار الآحاد لے کر فرمایا: انہیں ! تم کل صبح اس شخص کی عورت کے پاس جاؤ، اگر وہ اقرار کرے تو اس کو سنگسار کر دو۔چنانچہ انہیں صبح اس کے پاس گئے اور اس نے اقرار کیا جس پر انہوں نے اس کو سنگسار کیا۔أطرافه ۲۳۱۵، ٢٦٩٥، ٢٧٢٤ ، ٦٦٣٣ ٦٨٢٧ ٦٨٣٣ ٦٨٣٥، ٦٨٤٢، ٦٨٥٩، ۷۲۷۸ ،۷۲۵۸ ،۷۱۹۳ تشريح : مَا جَاءَ فِي إِجَازَةِ خَبَرِ الْوَاحِدِ الصَّدوق: ایک سچے شخص کی خبر کو درست قرار دینے کے بارے میں جو حدیثیں آئی ہیں۔امام بخاری نے معنو نہ آیات واحادیث سے اس امر کو ثابت کیا ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرائم فرد واحد کی خبر پر یقین کرتے ہوئے نماز ، روزہ اور دیگر فرائض و احکام ادا کیا کرتے تھے۔یعنی اُن کے نزدیک ایک ایسا شخص جو صدق پر بہت پختگی اور مضبوطی سے قائم رہنے والا اور تقوی اللہ پر قائم رہنے والا ہو تا، اُس کا اذان دینا یا فرائض و احکام کے متعلق خبر دینا جائز و قابل قبول ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرائض و احکام سے متعلق اخبار آحاد کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: کسی سے سن لیا ہے کہ احادیث اکثر احاد کے مرتبہ پر ہیں اور اس سے بلا توقف یہ نتیجہ پیدا کیا کہ بجز قرآن کریم کے اور جس قدر مسلمات اسلام ہیں وہ سب کے سب بے بنیاد شکوک ہیں جن کو یقین اور قطعیت میں سے کچھ حصہ نہیں۔۔۔در حقیقت یہ ایک بڑا بھاری دھوکہ ہے جس کا پہلا اثر دین اور ایمان کا تباہ ہونا ہے کیونکہ اگر یہی بات سچ ہے کہ اہل اسلام کے پاس بجز قرآن کریم کے جس قدر اور منقولات ہیں وہ تمام ذخیرہ کذب اور جھوٹ اور افترا اور ظنون اور اوہام کا ہے تو پھر شائد اسلام میں سے کچھ تھوڑا ہی حصہ باقی رہ جائے گا۔وجہ یہ کہ ہمیں اپنے دین کی تمام تفصیلات احادیث نبویہ کے ذریعہ سے ملی ہیں۔مثلاً یہ نماز جو پنج وقت ہم پڑھتے ہیں گو قرآن مجید سے اس کی فرضیت ثابت ہوتی ہے مگر یہ کہاں ثابت ہوتا ہے کہ صبح کی دورکعت فرض اور دور کعت سنت ہیں اور پھر ظہر کی چار رکعت فرض اور چار اور دوسنت اور مغرب کی تین رکعت فرض اور پھر عشاء کی چار۔ایسا ہی زکوۃ کی تفاصیل معلوم کرنے کے لئے ہم بالکل احادیث کے محتاج ہیں۔اسی طرح ہزار ہا جزئیات ہیں جو عبادات