صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 30
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۳۰ ۸۸ کتاب استتابة المرتدين۔۔۔کو صورتحال سے باخبر کیا۔یہ دونوں حضر موت کی طرف آگئے اور یوں سارا ملک میمن اسود کے قبضہ میں آگیا۔اس کی حکومت وہاں قائم ہو گئی اور اس کی طاقت بڑھتی گئی۔آخر کار یمامہ میں ایک معرکہ میں مسلمانوں نے اسے واصل جہنم کیا۔طلیحہ بن خویلد کے حالات 66 طلیحہ نے نبوت کا دعویٰ کیا اور باغیوں کو ساتھ لے کر سمیراء مقام پر مورچہ بند ہوا۔اس کے پیچھے اتنے لوگ آئے کہ ان کے لئے جگہ کم ہو گئی۔انہوں نے دو ٹولیوں میں بٹ کر اپنے وفد مدینہ بھیجے۔حضرت ابو بکر نے طلیحہ کے مطالبات ماننے سے انکار کر دیا۔اس وفد نے جا کر اپنے ساتھیوں کو بتایا کہ مسلمانوں کی تعداد بہت کم ہے، چلو ان پر حملہ کریں۔حضرت ابو بکر نے ان سے مذاکرات کے بعد مدینہ کی اطراف میں پہرہ کے لئے چھوٹے چھوٹے دستے مقرر فرما دیئے اور مسلمانوں سے کہا کہ سارے ملک میں ارتداد اور بغاوت کی وباء پھیلی ہوئی ہے اور مرتدین کے وفد نے ہماری تھوڑی تعداد کا اندازہ کر لیا ہے۔اب کوئی پتہ نہیں کہ وہ رات ہی تم پر حملہ کر دیتے ہیں یا دن چڑھنے کا انتظار کرتے ہیں۔اس لئے پورے طور پر تیاری کرو۔ابھی تین دن ہی گزرے تھے کہ باغیوں کے لشکر نے رات کے وقت مدینہ پر ہلہ بول دیا۔حضرت ابو بکر مسلمانوں کو لے کر مقابلہ پر نکلے اور دشمن کو پسپا کر دیا۔“ مسیلمہ کذاب کے حالات اس کے ساتھ قبیلہ بنو حنیفہ کی اکثریت مل گئی۔اس نے یمامہ پر قبضہ کر کے وہاں سے رسول اللہ کے مقرر کردہ گورنر حضرت ثمامہ بن اثال کو نکال دیا۔اس نے بڑی قوت پکڑ لی۔سجاح نامی مدعیہ نبوت اس سے لڑنے کے لئے نکلی۔یہ اس سے ڈر گیا اور اس کے ساتھ مصالحت کر کے ان الفاظ میں اسے مسلمانوں کے خلاف جنگ پر اکسانے لگا۔اگر قریش (مسلمان) عدل سے کام لیتے تو نصف ملک خود رکھتے اور نصف ہمارے حوالے کرتے مگر انہوں نے ہمارے ساتھ ظلم کیا ہے۔کیا تم میرے ساتھ شادی کرو گی؟ تاہم دونوں مل کر اپنے قبیلوں کو لے کر سارے