صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 519
صحيح البخاری جلد ۱۹ ۵۱۹ ۹۵- کتاب اخبار الآحاد بخاری اور مسلم اکثر مجموعہ احاد کا ہے اور۔۔۔احاد کی نسبت امام مالک اور امام شافعی اور امام ابو حنیفہ کی یہی رائے ہے کہ وہ قرآن کے مخالف ہونے کی حالت میں ہرگز قبول کے لائق نہیں۔“ (الحق مباحثہ لدھیانہ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۹۹) نیز فرمایا: ممکن ہے کہ بعض احادیث کے الفاظ محفوظ نہ رہے ہوں کیونکہ احادیث کے الفاظ وحی متلو کی طرح نہیں اور اکثر احادیث احاد کا مجموعہ ہیں۔اعتقادی امر تو الگ بات ہے۔جو چاہو اعتقاد کرو مگر واقعی اور حقیقی فیصلہ یہی ہے کہ احاد میں عند العقل امکان تغییر الفاظ ہے۔چنانچہ ایک ہی حدیث میں جو مختلف طریقوں اور مختلف راویوں سے پہنچتی ہے اکثر ان کے الفاظ اور ترتیب میں بہت سا فرق ہوتا ہے حالانکہ وہ ایک ہی وقت میں ایک ہی منہ سے نکلی ہے۔پس صاف سمجھ آتا ہے کہ چونکہ اکثر رادیوں کے الفاظ اور طرز بیان جداجدا ہوتے ہیں اس لئے اختلاف پڑ جاتا ہے۔“ نیز فرمایا: ایام الصلح، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۲۶۵) ”میر امذ ہب امام شافعی اور امام ابو حنیفہ اور امام مالک کے مذہب کی نسبت حدیث کی بہت رعایت رکھنے والا ہے کیونکہ میں صحیحین کی خبر واحد کو بھی جو تعامل کے سلسلہ سے موکد ہے اور احکام اور حدود اور فرائض میں سے ہو نہ حصہ دوم میں سے، اس لائق قرار دیتا ہوں کہ قرآن پر اس سے زیادتی کی جائے اور یہ مذہب ائمہ ثلاثہ کا نہیں مگر یاد رہے کہ میں واقعی زیادتی کا قائل نہیں بلکہ میرا ایمان انا انزلنا الكتاب تبیان الکل شیء پر ہے جیسا کہ میں ظاہر کر چکا ہوں۔“ الحق مباحثہ لدھیانہ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۱۰۰) بَاب ۱ : مَا جَاءَ فِي إِجَازَةِ خَبَرِ الْوَاحِدِ الصَّدُوقِ فِي الْأَذَانِ وَالصَّلَاةِ وَالصَّوْمِ وَالْفَرَائِضِ وَالْأَحْكَامِ اذان اور نماز اور روزہ اور دیگر فرائض اور احکام کے متعلق ایک سچے شخص کی خبر کو درست قرار دینے کے بارے میں جو حدیثیں آئی ہیں وَقَوْلُ اللهِ تَعَالَى: فَلَوْلَا نَفَرَ مِن كُلِّ اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: ان کے ہر گروہ میں سے کچھ