صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 518
صحيح البخاری جلد ١٦ ۵۱۸ ۹۵- کتاب اخبار الآحاد بسم الله الرحمن الرحيم ٩٥ - كتاب اخبار الآحاد ان خبروں کا بیان جن کو ایک شخص نے نقل کیا آحاد واحد کی جمع ہے۔علامہ ابن حجر بیان کرتے ہیں کہ خبر واحد یا اخبارِ آحاد سے مراد وہ احادیث وروایات ہیں جن کو بیان کرنے والوں کی تعداد انتہائی کم اور محدود ہوتی ہے۔اس وجہ سے ایسی روایات کو ظنی علم کا درجہ دیا جاتا ہے۔راویوں کی تعداد کے لحاظ سے اس کی تین اقسام ہیں: (۱) مشہور (۲) عزیز (۳) غریب (۱) مشہور سے مراد ایسی روایت ہے جس کو بیان کرنے والے کسی دور میں بھی تین سے کم نہ ہوں۔(۲) عزیز: جس روایت کو بیان کرنے والے کسی دور میں صرف دو رہ گئے ہوں اُسے "عزیز" کہا جاتا ہے۔(۳) غریب : ایسی روایت جس کے سلسلہ سند کے کسی دور میں صرف ایک راوی رہ گیا ہو تو ایسی روایت ”غریب کہلاتی ہے۔خبر واحد کے بالمقابل خبر متواتر ہے جسے یقینی علم کا درجہ دیا جاتا ہے۔(نخبۃ الفکر فی مصطلح أهل الأثر ، صفحہ 1) خبر متواتر سے مراد ایسی روایت ہے جسے بیان کرنے والوں کی ہر زمانہ میں ایک جماعت ہو۔یعنی ہر دور میں اسے بیان کرنے والے اس قدر زیادہ ہوں کہ ان سب سے بالا تفاق جھوٹ صادر ہو جانا محال ہو۔(نزهة النظر فی توضیح نخبة الفكر ، صفحہ ۳۷) امام بخاری اس کتاب میں ۲۲، مرفوع احادیث لائے ہیں اور ان پر چھ ابواب قائم کئے ہیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ہر یک عاقل سمجھ سکتا ہے کہ ایک خبر واحد غایت کار مفید ظن ہے۔سو وہ یقینی اور قطعی ثبوت کو کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکتی۔بہت سی حدیثیں مسلم اور بخاری کی ہیں جو امام اعظم صاحب نے جو رئیس الائمہ ہیں قبول نہیں کیں ، بعض حدیثوں کو شافعی نے نہیں لیا، بعض حدیثوں کو جو نہایت صحیح سمجھی جاتی ہیں امام مالک نے چھوڑ دیا۔“ نیز فرمایا: (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳۹۳) علماء حنفیہ خبر واحد سے گو وہ بخاری ہو یا مسلم، قرآن کریم کے کسی حکم کو ترک نہیں کرتے اور نہ اس پر زیادت کرتے ہیں اور امام شافعی حدیث متواتر کو بھی بمقابلہ آیت کالعدم سمجھتا ہے اور امام مالک کے نزدیک خبر واحد سے بشرط نہ ملنے آیت کے قیاس مقدم ہے۔دیکھو صفحہ ۱۵۰ کتاب نورالانوار اصول فقہ۔۔۔یہ ظاہر ہے کہ