صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 517 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 517

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۴ - كتاب التمني پھر بعض اوقات انسان ناکامی کے وجوہات تلاش کرتے کرتے گزشتہ امور میں غور کرنے لگ جاتا ہے اور کہتا ہے کہ اگر میں آج سے دو سال پہلے یا چار سال پیشتر اس طرح سے عمل درآمد کرتا تو آج مجھے اس ناکامی کا منہ نہ دیکھنا پڑتا۔اگر ایسا ہوتا تو میں کامیاب ہو جاتا۔اس طرح کے غم کا نام جو گزشتہ غلطیوں اور کو تاہیوں کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے شریعت نے حزن رکھا ہے اور اس سے پناہ مانگنے کی تاکید فرمائی ہے۔حدیث شریف میں وارد ہے: بِئْسَ الْمَطِيْئَةُ لَو۔تو (اگر ایسا ہوتا تو ایسا ہو جاتا اور یوں ہوتا تو یوں ہو جاتا) بہت بُری چیز اور نقصان رساں لفظ ہے۔اس طرح اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَةِ وَالْحُزْنِ کے یہ معنی ہوئے کہ یا الہی ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اُن بواعث اور موجبات سے جن کا نتیجہ ”ہم “ اور ”حزن “ ہوتا ہے۔یعنی نہ تو مجھ میں بے جا اور لمبے لمبے ارادے پیدا ہوں اور نہ میں ”کاش“ اور ”لو “ کا استعمال کروں۔مطلب یہ کہ نہ مجھے موجودہ ناکامی کی وجہ سے کوئی غم ہو اور نہ گذشتہ کسی تکلیف کا خیال مجھے رنجیدہ اور ستانے کا باعث ہو سکے۔اس دعا کے سکھانے سے غرض اور انسان کے واسطے سبق یہ مد نظر ہے کہ انسان بہت طول امل سے پر ہیز کرتا رہے اور گزشتہ مصائب کو یاد کر کے اپنے آپ کو تکلیف میں نہ ڈالے۔کیونکہ جب انسان ہم اور حزن میں ڈوب جاتا ہے تو آئندہ ترقیوں کی راہیں بھی اس کے واسطے بند ومسدود ہو جاتی ہیں۔ہم اور حزن سے فرصت ملے، نہ یہ حصول خیر اور دفع شر کے لئے کوئی تجویز سوچے۔پس اس لئے انسان کو پھر یہ دعا سکھائی گئی کہ أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ۔“ 66 (خطبات نور، خطبه جمعه فرموده ۳، اپریل ۱۹۰۸، صفحه ۳۱۷، ۳۱۸)