صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 516
صحيح البخاری جلد ۱۶ ۵۱۶ ۹۴ - كتاب التمني آتے ہیں اور جوں جوں اس کے اعضا نشو و نما پا کر پھیلتے ہیں اور قومی مضبوط ہوتے ہیں، اُس کے ارادے بھی وسیع ہوتے جاتے ہیں۔ایک بچہ رونے اور ضد کرنے کے وقت ماں کی گود میں چلے جانے یا دودھ پی لینے سے یا تھوڑی سی شیرینی یا کسی تماشے کھیل سے خوش ہو سکتا ہے اور اس کے بہلانے کے واسطے بہت تھوڑی سی تکلیف برداشت کرنی پڑتی ہے یا یوں کہو کہ ایک بچے کی خوشی اور خواہشات کا منزل مقصود بہت محدود ہوتا ہے مگر جوں جوں وہ ترقی کرتا اور اس کے قویٰ مضبوط ہوتے جاتے ہیں توں توں اُس کے ارادوں اور خواہشات کا میدان بھی وسیع ہوتا چلا جاتا ہے۔حتی که قرآن شریف کی اس آیت اَو لَم نُعَتِرَكُمْ مَّا يَتَذَكَرُ فِيهِ مَنْ تَذَكَّرَ وَ جَاءَكُمُ النَّذِيرُ (فاطر: ۳۸) کا مصداق بن جاتا ہے۔اس دور کا پہلا درجہ اٹھارہ سال کی عمر ہوتی ہے۔اس وقت انسان میں عجیب عجیب قسم کی امنگیں پیدا ہوتی ہیں۔ایسے وقت میں جبکہ انسان کے قویٰ بھی مضبوطی اور استویٰ کی حد تک پہنچ جاتے ہیں اور اس کے ارادے بھی بہت وسیع ہو جاتے ہیں، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر نمازی کو جن میں یہ لڑکا بھی داخل ہے، طولِ امل اور ہموم و غموم سے پناہ مانگنے کے واسطے حکم دیا ہے۔ایک دوسری حدیث میں آیا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چار کو نہ شکل بنائی اور اس کے وسط میں ایک نقطہ بنا کر فرمایا کہ یہ نقطہ انسان ہے اور دائرہ سے مراد اجل ہے یعنی انسان کو اجل احاطہ کیے ہوئے ہے اور پھر انسانی امانی اور آرزوئیں اس سے بھی باہر ہیں۔یہ سچی بات ہے کہ انسان بڑے بڑے لمبے ارادے کرتا ہے جو سینکڑوں برسوں میں بھی پورے نہیں ہو سکتے مگر اس کی اجل اسے ان ارادوں تک پہنچنے سے پہلے ہی دبا لیتی ہے۔غرض انسان چونکہ بہت لمبے ارادے کر لیتا ہے اور پھر اُن میں کامیاب نہیں ہوتا تو اس ناکامی کی وجہ سے انسان میں ہم یعنی غم پیدا ہو جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ انسان کو لمبے ارادے کرنے سے منع کیا گیا ہے اور أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمْ کے یہی معنے ہیں کہ اے خدا! میں ان موجبات سے ہی تیری پناہ مانگتا ہوں جو ”ہم“ کا باعث ہوتے ہیں۔