صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 515
صحيح البخاری جلد ١٦ ۵۱۵ ۹۴ - كتاب التمني النَّاسُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا لَسَلَكْتُ وَادِيَ کی ہوتی تو میں ضرور انصار میں سے ایک شخص ہوتا الْأَنْصَارِ وَشِعْبَهَا۔طرفه: -٤٣٣٠ اور اگر لوگ ایک وادی میں داخل ہوں یا ( فرمایا :) پہاڑی راستہ میں چلیں تو میں ضرور انصار کی ہی وادی اور اُن کے ہی راستے میں چلتا۔تَابَعَهُ أَبُو التَّيَّاحِ عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ (عباد کی طرح) ابوالتیاح نے اس حدیث کو حضرت صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الشَّعْبِ انسؓ سے روایت کیا۔انہوں نے نبی صلی علیکم۔انہوں نے بھی پہاڑی راستہ کا ذکر کیا ہے۔طرفه: ۳۷۷۸، ٤٣٣٢ - تشریح: مَا يَجُوزُ من اللو: اگر مگر کہنا جو جائز ہے۔امام بخاری نے اس باب میں قرآن کریم اور احادیث سے لفظ کو کے استعمال کے جواز کو ثابت کیا ہے۔علامہ ابن حجر نے اس باب کی شرح میں بعض ایسی روایات کا ذکر کیا ہے جن میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کو کہنے سے منع فرمایا ہے۔جیسا کہ صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو بھی تمہارے لیے مفید ہے اُس کی خواہش رکھو اور اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرو اور ہمت نہ ہارو۔پھر اگر تمہیں کوئی تکلیف پہنچے تو یہ مت کہو کہ اگر میں (ایسا) کرتا تو ایسا ایسا ہو جاتا بلکہ یہ کہو کہ اللہ کی تقدیر تھی، جو اُس نے چاہا، وہی کیا۔کیونکہ تو (یعنی اگر یا کاش کہنا) تو شیطانی اعمال کھول دیتا ہے۔(صحیح مسلم، کتاب القدر ، باب فی الامر بالقوة ) ابن ماجہ ، نسائی، طحاوی وغیرہ کی اسی مضمون کی روایات کا تذکرہ کرنے کے بعد انہوں نے لفظ کو کے جواز و عدم جواز کی روایات کے باہمی تناقض کے حل میں علامہ طبری کا ایک قول درج کیا ہے کہ مناہی اس صورت سے مخصوص ہے کہ کوئی آدمی کسی نا کر دنی عمل پر وثوق کے ساتھ کہے کہ اگر یہ ہو جاتا تو ضرور ایسا ہو جانا تھا اور اس امر کو ایسا حتمی جانے کہ اس کے دل میں بھی وہ معاملہ مشیت الہی سے مشروط ہونے کا خیال نہ آئے۔لیکن اگر کہنے والا اس شرط پر ایسا پختہ یقین رکھنے والا ہو کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت اور اس کے ارادہ کے سوا کوئی چیز واقع نہیں ہو سکتی، جیسا کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا یہ قول ہے کہ اگر ان میں سے کوئی اپنا پاؤں اُٹھائے تو ہمیں دیکھ لے، تو اس کی قطعیت آپ کے اس یقین پر تھی کہ اللہ تعالیٰ قادر ہے کہ وہ اُن کی آنکھیں ان دونوں سے پھیرے رکھے۔اور یہ جملہ محاورہ ہے جبکہ آپ یہ پختہ یقین رکھنے والے تھے کہ اگر وہ اپنے پاؤں اُٹھا بھی لیں تو انہیں اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر نہیں دیکھ سکتے۔ایک موقع پر حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ نے فرمایا: (فتح الباری، جزء ۱۳ صفحه ۲۸۰) انسان بہت بڑے بڑے ارادے کرتا ہے۔بچپنے سے نکل کر جب جوانی کے دن